مان
مان
از رائحہ مریم
قسط نمبر1
" ہاں میں ہوں ایسی۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوں میں ایسی لیکن مجھے ایسا بنانے والی آپ ہیں ، سنا آپ نے مجھے ایسا بنا دیا ہے ۔ آپ نے مجھے جاہل بن کر جینا سکھایا ، سنا آپ نے جاہل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن نہیں ، میں آپ جیسی جاہل نہیں بننا چاہتی ہوں ، میں اپنی بہنوں کو اب ایسی زندگی نہیں دینا چاہتی ہوں ، سنا آپ نے ، میری آنکھیں کھل گئ ہیں اب ، افسوس ہے امی کہ آپ نے مجھے یہ سب نہیں سکھایا ، آپ نے نہیں بتایاکہ ہاں مجھے جینے کا حق ہے ، کہ ہاں مجھے خوش رہنے کا حق ہے امی ، میں نے جاہلوں کی طرح چار سال اس شخص کی قید میں گزارے ہیں ، اس کی بیٹی میرا خون نہیں تھی لیکن میں نے اسے سینے سے لگایا تھا ، آپ کو اس کا دین دار ہونا تو نظر آتا ہے لیکن میرے جسم پر جابجا زخم نظر نہیں آتے امی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ، خبردار جو اب اس گھر میں کسی نے شادی کا نام بھی لیا تو ، خبردار جو آپ نے میری بہنوں کے ساتھ وہ ہی کرنے کی کوشش کی جو آپ میرے ساتھ کر چکی ہیں ۔ اب میں جاب بھی کروں گی اور اپنی بہنوں کو بھی پالوں گی ۔۔۔۔۔ لیکن امی اب میں آپ کو ایسی زندگی نہیں جینے دوں گی۔"
حمدا آج بھی ان باتوں کو سوچتی تو اتنا ہی دکھ ہوتا جتنا پہلے دن ہوا جب اس نے یہ باتیں سفینہ ( ماں ) کو کہیں تھیں ، جس دن اس نے طلاق کا مطالبہ کیا تھا کہ وہ اب حضر حیات کے ساتھ نہیں رہے گی ۔ آج وہ صبح گھر سے آفس کیلیے نکل رہی تھی جب اس نے سفینہ کے ساتھ بیٹھی زاہدہ خالہ جو کہ رشتے کروایا کرتی تھی ان کو بیٹھے دیکھا ، اس نے سفینہ کے پاس بیٹھ کر زیادہ نہیں بس اتنا کہا ، " امی آپ ان لوگوں کو ضرور بلائیں جو آپ کو پسند ہیں ، بے شک وہ ہمیں ناپسند ہوں ، لیکن اب ان کو یہ باور کروا دیں کہ ان کے فیصلوں پر اب یہ گھر نہیں چلے گا ۔ " پھر وہ سفینہ کے گلی لگی اور باہر نکل آئ ۔ حمدا ان سے بہت مرتبہ اس دن کی بدتمیزی کی معافی مانگ چکی تھی لیکن جس دن ذرا سی نوک جھوک ہو جاتی اسے دوبارہ سے وہ باتیں یاد آجاتیں ۔ وہ آفس جانے کی بجائے راستے میں بنے ایک پارک کے بنچ پر بیٹھ گئ ۔ ابھی اسے وہاں بیٹھے چند لمحے ہی ہوۓ تھے کہ وہاں ایک نوجوان آکر بیٹھ گیا ، حمدا نے گردن موڑ کر اسے دیکھا ، دیکھنے میں شریف ہی تھا ، پینٹ کوٹ پہنے ، ٹائ لگاۓ ، کسی بھی ٹین ایجر کو پاگل کرنے کیلیے کافی حسن بھی تھا اس کے پاس ۔ جب اس شخص کی طرف سے کوئ بدتمیزی نہیں ہوئ تو حمدا بھی وہیں بیٹھی رہی ۔
لیکن کچھ دیر بعد جب حمدا نے اس شخص کو اپنی جیب سے ایک سگريٹ نکالتے ہوۓ دیکھا تو اس کے ماتھے پر بل پر گۓ ، لیکن وہ شخص ادر گرد سے بےخبر اسے سلگا کر ہونٹوں میں رکھنے لگا ۔
" مسٹر ! تم یہ یہاں پیو گے ؟ " حمدا نے سگريٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا ۔ جس پر وہ بوکھلا گیا اور اردگرد دیکھ کر تصدیق کرنے لگا کہ آیا یہ لڑکی اسی سے مخاطب ہے یا کسی اور کی شامت آئ ہے ۔
" مسٹر بہرے ہو کیا جو سنائ نہیں دے رہا ، تم سے مخاطب ہوں ، یہ جگہ ہے کیا سگريٹ پینے کی ۔ " اب کی بار اگلے شخص کو بھی برا لگا تو بولا ، " مجھے یہاں پر کوئ بھی بورڈ نظر نہیں آرہا جس پر لکھا ہو "نو سموکنگ" آپ کو تکلیف ہے تو دوسرےبنچ پر بیٹھ جائیں ۔" اس نے رکھائ سے کہتے ہوئے رخ دوسری طرف موڑ لیا ، جس پر حمدا تپ اٹھی ، " تم جیسے لوگوں ہی کی وجہ سے ۔ ۔ ۔ " ابھی اس ک بات منہ میں ہی تھی کہ وہ بولا ، " کیا۔ ۔ ہاں کیا ہم جیسے لوگوں کی وجہ سے ؟ " حمدا کا پارا ہائ ہو گیااور وہ اپنی بات بھول گئ اوپر سے جس طرح وہ شخص اسے دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ " تم جیسے ہی پڑھے لکھے جاہلوں کی وجہ سے ملک میں گلوبل وارمنگ کی شرح میں آۓ روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ اپنا نہیں تو ملک کے عوام کا ہی تھوڑا خیال کر لو ، لیکن نہیں تم جیسے لوگ جب تک ان چیزوں پر اپنا پیسے کا ضیاع اور ماحول کو خراب نا کر لو چین کہاں ملے گا تم لوگوں کو اور میں بھی کسے کہہ رہی ہوں ، کسی کو برائ سے روکنے سے بہتر ہے کہ انسان بھینس کے آگے بین بجا لے ، کم از کم وہ بھینس تو انجواۓ کرے گی ۔ ۔ ۔ ۔ " اتنا سنا کر لمبے لمبے سانس لیتی وہ وہاں رکی نہیں بلکہ زچل دی ۔ جبکہ حزلان کا سگريٹ تھاما ہاتھ ہوا میں اسی طرح معلق رہا ، وہ حمدا کی باتوں کے سحر سے نکلا تو حیرت ہوئ کہ وہ پہلی مرتبہ کسی لڑکی کے ہاتھوں زلیل ہوا ہے اور وجہ ۔ ۔ ۔ وجہ بنا یہ سگريٹ ، خود کو خوب کوسنے کے بعد اس نے غصے سے سگريٹ دور پھینکا ۔ " ارے یار کس کی شامت آئ ہے صبح ہی صبح ـ" پاس سے ہی حزلان کے دوست احمد رضوی کی آواز آئ تو حزلان کا موڈ ٹھیک ہوا اور اٹھ کو اس کے گلے ملا ، " ارے نہیں یار کچھ بھی نہیں ، بس تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا ۔ وقت نکالنے کا شکریہ ۔ " جگری یاروں کی طرح گلے ملتے ہوئے وہ بولا ۔ " شکریہ والی تو کوئ بات ہی نہیں ، آج پہلا دن ہے تمہارا اپنے آفس میں ، نروس ہونا فطری بات ہے ـ اب چلو چلتے ہیں اور تم مجھے بتاؤ کہ وہ محترمہ کیا کہہ کر گئ ، کہیں نمبر ومبر تو نہیں مانگ لیا یہاں آتے ہی ۔ " ،" ارے نمبر تو دور میں تو کچھ بولا بھی نہیں تھا ۔ " پھر حزلان نے ساری بات احمد کو بتائ تو وہ ہنس ہنس کر دہرا ہو گیا ۔ " یار تیری ہوئ ویسے اعلیٰ قسم کی ہے ۔ " حزلان نے چلتے چلتے ایک ہاتھ اس کی کمر پر جھڑ دیا ۔
*****************
حمدا آفس پہنچی تو وہاں ثناء ایک نئ خبر لیے اس کا انتظار کر رہی تھی ۔ " السلام علیکم ثناء ، خیریت اتنی جلدی میں کیوں ہو ؟ " حمدا نے اپنے کیبن میں آکر سلام لی اور ثناء جواب دے کر جانے لگی ، " حمدا دعا دو مجھے ـ" ثناء نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر کہا ۔
"خیریت تو ہے ، لگتا ہے رشتہ آنا ہے آج آپ کا ۔ " حمدا نے بات کو مزاح کا رخ دیا لیکن ثناء بولی ، " ارے نہیں یار تمہیں بتایا تو تھا کہ شیرازی سر کی غیرموجودگی میں کمپنی کو سر حزلان دیکھیں گے ، اور میری اسی سلسلے میں حاضری ہے ان کے آفس میں ، سی وی دوبارہ چیک ہو گی۔۔۔۔ سمجھ لو دوبارہ انٹرویو کیلیے جا رہی ہوں ، دعا کرنا میرے لیے ۔" ثناء نے اتنا کہا اور چل دی جبکہ حمدا کو نئ مصیبت نے آلیا ۔ اسے یہاں نوکری شیرازی سر کی ریفرنس سے ملی تھی ، ڈگری اس کے پاس تھی نہیں لہذا وہ اس کمپنی میں پریزنٹیشنز بنایا کرتی تھی کیونکہ کمپیوٹرز کی دنیا کی ماسٹر تھی وہ ۔ اگر کہیں کہ وہ انگلیوں سے جادو کرتی تو غلط نہیں ہوگا یہ ۔ اس کی بنائ ہوئ پریزنٹیشنز کی تعریف بہت ہوتی اور شیرازی سر اس کا پروموشن کرتے ہوئے اس کی تنخواہ میں اضافہ کرتے رہتے ۔ اب پتا نہیں یہ نۓ باس کا رویہ کیسا ہوتا اس کے ساتھ ۔
****************
حمدا کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا ، اس کے بابا کی موت ایک حادثے میں ہوئ جب حمدا بارہ سال کی اور اس کی دونوں چھوٹی بہنیں رودابہ اور ماہ نور پانچ سال کی تھیں ـ سفینہ کی بہن کنیز فاطمہ اور ان کے شوہر غلام حسین نے بظاہر ان لوگوں کو سہارا دیا ، کیونکہ ہارون صاحب ( سفینہ کے شوہر ) اکلوتے بھائ تھے ـ ١٩ سال کی عمر میں حمدا نے بی اے کر لیا کیونکہ وہ اپنی عمر کے بچوں کی نسبت زیادہ ذہین تھی ، لیکن اس کی آگے پڑھنے کی خواہش خواہش ہی رہی کیونکہ اس کی خالہ نے اس کا رشتہ دیکھ کر اس کی شادی ایک ایسے آدمی سے کروا دی جس کی پہلی بیوی مر چکی تھی اور وہ ایک بیٹی کا باپ بھی تھا ، لیکن سفینہ کو جس چیز نے متاثر کیا وہ یہ تھا کہ وہ شخص مذہبی تھا ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ شادی چار سال سے زیادہ نا چل سکی اور حمدا نے حضر سے تلاق لے لی ، رحمت ( حضر کی بیٹی ) کو حمدا سے بہت لگاؤ تھا لیکن حمدا نے اس بار کسی کی نا سنی اور علیحدگی اختیار کر کے ہی دم لیا ۔ کیونکہ حضر ایک منافق شخص تھا ، وہ جو نظر آتا تھا وہ تھا نہیں ۔ حمدا نے پہلے ڈھکے چھپے لفظوں میں سفینہ سے اس کی شکایت کی تو انہوں نے الٹا اسے ہی ڈانٹ دیا " تو کیا ہوا اگر وہ تم پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو ، محبت بھی تو کرتا ہے تم سے ۔" اور حمدا خاموش ہو جاتی ۔ لیکن جب چار سال کے بعد حمدا پر اسلام کی روشنی میں عورت کا مقام واضح ہوا تو اس نے سمجھوتا نا کیا ۔ اس کی علیحدگی کے فیصلے سے یہ ہوا کہ پہلے تو کنیز فاطمہ نے ان کا پورشن الگ کیا ، حمدا نے آفس میں جاب شروع کی تو گھر بھی الگ ہو گیا ۔ اب سفینہ اپنی تینوں بیٹیوں کے ہمراہ اسی محلے کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ، خود وہ کپڑے سیتیں ، حمدا نوکری کرتی اور دونوں چھوٹی بہنیں پڑھتی تھیں ۔ کنیز فاطمہ کی بیٹی ماہ جبین شادی شدہ تھیں اور ان کی بھی ایک ہی بیٹی تھی جو کہ دو سال کی تھی رمشہ ۔ رمشہ خاندان کا پہلا بچا تھی اس لیے اس نے سب کا پیار سمیٹا ۔
*************
ثناء پریشان سی اس کے کیبن میں داخل ہوئ ، " مت پوچھو یار سر نے کیا کیا آج ـ " حمدا نے سر اٹھا کر ایک نظر ثناء کو دیکھا اور پھر کام میں مصروف ہو گئ ، " ٹھیک ہے نہیں پوچھتی تم خود بتا دو گی جانتی ہوں میں ۔" حمدا نے بیزاری سے کہا کیونکہ اسے ایک فیچر کو پریزنٹیشن میں داخل کرنا تھا لیکن وہ ہو نہیں رہا تھا ، ثناء نے آگے ہو کر لیپ ٹاپ کی سکرین بند کی اور حمدا کو متوجہ کر کے بولی ، "حمدا میں مذاق نہیں کر رہی ، حزلان سر بہت سٹرکٹ ہیں ، انہوں نے دوبارہ مجھ سے بزنس کی کچھ ٹرمز سنیں اور بولے ، " مس ثناء میں آپ کی سی وی سے تو متاثر ہوا ہوں لیکن آپ سب کچھ بھول چکی ہیں ، امید ہے کہ کام سے مجھے مایوس نہیں کریں گی " لو بتاؤ بھلا اتنے سال پہلے پڑھا کہاں یاد رہتا ہے ، میں تو پیپر دے کر آکے ہی کتاب کا اتنا حصہ سرے سے ہی اکھاڑ دیتی تھی ۔ " ثناء نے دہائ دیتے ہوۓ کہا تو حمدا بھی پریشان ہو گئ ۔ "میرا کیا ہو گا اب ، میرے پاس تو کوئ بھی معقول ڈگری نہیں ہے ۔ " حمدا نے پریشان ہوتے ہوئے کہا ۔ " تمہارا کیا ہوگا یہ تو ابھی تھوڑی دیر تک ہی پتا چلے گا ، سر نے بلوایا ہے تمہیں ـ " حمدا پریشان سی اٹھی اور آفس کی طرف چل دی ۔ جاتے ہوۓ وہ درود کا ورد کرنے لگی ۔ دروازے کےہینڈل کو ہاتھ میں پکڑ کر وہ گھمانے ہی لگی تھی کہ وہ جھٹکے سے کھل گیا اور اندر سے آنے والے شخص کو دیکھ کر حمدا کے ہاتھ پاوں پھولنا شروع ہو گئے ، لیکن وہ شخص جلدی میں تھا شاید اس لیے رکا نہیں جلد ہی چلا گیا اور حمدا کو یقین تھا کہ اس نے حمدا کو نہیں دیکھا ۔ حمدا نے پاس بیٹھی سیکٹری سے پوچھا ، " جویریہ یہ کون تھے ؟ " تو وہ بولی ، " یہ حزلان سر ہیں ، آج ہی جوائن کیا ہے شیرازی سر کی جگہ ـ" جبکہ حمدا کو دنیا گومتی ہوئ محسوس ہوئ ، وہ کوئ اور نہیں وہ ہی شخص تھا جسے صبح حمدا نے خوب سنائی تھیں ۔
" میں تو گئ ، اللہ جی ۔ "
حمدا اپنے کمرے میں واپس آگئ ، وہاں ثناء پہلے ہی اس کا انتظار کر رہی تھی ، حمدا کے آنے پر وہ اٹھ کھڑی ہوئ اور پوچھا ، " کیا بات ہوئ سر سے حمدا ؟" ،
اور پھر حمدا نے اسے ساری بات بتائ جس کے بعد ثناء نے بھی پیشنگوئی کی کہ اب حمدا کو دوسری جاب دیکھ لینی چاہئیے ۔ آفس ٹائم ختم ہوا تو حمدا بوجھل دل لیے "کرافٹ سینٹر" آگئ ، یہاں وہ ڈھائ گھنٹے جاب کرتی تھی ، کارڈز بنانا اور ڈیکوریشن سیٹس یا پھر لوگوں کی ڈیمانڈ کے مطابق ان کو چیزیں بنا دینا ۔ یہ سینٹر ایک بھوڑی عورت” میم روشنی“ نے کھولا تھا جس کا مقصد خصوصاً بھیک مانگنے والی بالغ لڑکیوں کو روزگار کے حلال طریقے سے واقف کروانا تھا ، وہاں خود لڑکیوں کو مفت ٹریننگ دی جاتی اور پھر وہ وہیں کام بھی کرتیں ۔ میم روشنی ان لوگوں میں سے تھیں جو کہ اس ملک کے بہتر مستقبل کیلیے اپنا کردار خاموشی سے ادا کر رہی تھیں ، حمدا نے اسی بوجھل دل کے ساتھ بمشکل چار کارڈز بناۓ اور گھر چلی آئ ، ابھی وہ دروازے تک ہی پہنچی تھی کہ اس کا موڈ خوشگوار ہو گیا ، " آج دال چاول پکے تھے ۔" خوشبو آتے ہی حمدا کی ساری ٹینشن نے رکشہ کروایا اور بہت دور چلی گئ ـ " السلام علیکم آپی ۔" رودابہ نے دروازہ کھولتے ہوئے سلام لیااور چہرے پر شرارت سجا لی ۔ حمدا کو خطرے کی بو آئ لیکن اس نے کہا کچھ نہیں وہ سیدها باورچی خانے میں آئ اور ہانڈی کا ڈھکن اٹھایا تو اندر پانی نے اس کا منہ چرایا ، اور وہ سمجھ گئ کہ رودابہ ہنس کیوں رہی تھی ، وہ وہیں باورچی خانے میں زمین پر بیٹھی اور دونوں کو آوازیں دینے لگی ، " رودابہ ! ماہ نور ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " سفینہ سمیت وہ دونوں بھی وہیں آگئیں ، " کیوں تنگ کرتی ہو تم دونو اس بیچاری کو ۔ " سفینہ نے دونوں کو ڈانٹنا چاہا لیکن ان پر کون سا اثر ہونا تھا ، " آج مت روکیں امی ، آپی اسی دن ہاتھ آتی ہیں جس دن ان کی پسندیدہ دال بنی ہو ، جی تو آپی بتائیں کیا کر سکتی ہیں آپ کہ ہم آپ کو چنوں کی دال کھانے کی اجازت دیں جوکہ امی نے آج الگ ترکیب سے بنائ ہے اور یقین جانیں بہت مزے کی ہے ۔" ماہ نور نے جس طرح تعریف کی حمدا کا منہ پانی سے بھر گیا ، بمشکل تھوک نگلا اور بولی ، " گول گپے اور آئس کریم آج میری طرف سے ، اب خوش لیکن برتن تم دونو دھو گی ۔" حمدا نے ہار مانتے ہوۓ کہا ۔
" ویسے آپی ہم خالی گول گپوں پر بھی مان جاتے لیکن چونکہ اب آپ کہہ چکی ہیں تو لائیں دو سو روپے ۔" رودابہ نے پیسے سمبھالے اور ماہ نور برتن لگانے لگی ۔ سب نیچے زمین پر سنت کے مطابق بیٹھ گئیں ۔
" ویسے امی آپ نا کپڑے سینے چھوڑ کر ہوٹل کھول لیں ، یقین جانیں لوگوں کی موجیں ہو جانی ہیں ۔" حمدا نے کھانا ختم کرتے ہوۓ کہا جس پر سفینہ فقط مسکرا دیں ، وہ حمدا سے زیادہ بات نہیں کیا کرتی تھیں ، حمدا کو لگتا تھا کہ شاید وہ ناراض ہیں لیکن وہ شرمندہ تھیں کیونکہ ان کو احساس ہو گیا تھا کہ انجانے میں وہ اپنی بیٹی پر ظلم کر چکی ہیں جسے اس نے چار سال برداشت کیا تھا ۔ ان کو آج بھی اپنی اور حمدا کی باتیں یاد تھیں ۔
"امی وہ مجھ پر ہاتھ اٹھاتے ہیں ۔ " ، حمدا نے خضر کی شکایت کی تو وہ بولیں ، " میری جان بہت سے لوگ اپنی بیویوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں یہ کوئ نئی بات نہیں ہے ۔"
" لیکن امی بابا نے تو کبھی آپ پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔" حمدا کیلیے بھی ہر لڑکی کی طرح ہارون صاحب آیڈیل تھے ۔ "حمدا ہر شخص تمہارے بابا جیسا نہیں ہوسکتا ، کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔ان جیسا تو کوئ تھا ہی نہیں ۔" سفینہ یہ کہتے ہوئے رو پڑیں ، تو حمدا اپنا دکھ بھلا کر ان کی طرف لپکی ، " امی سوری میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔" حمدا نے ان کو ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔ "حمدا بچے ایک دفع تم لوگوں کے ہاں اولاد ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔"
"امی ان کو مجھ سے اولاد نہیں چاہئیے ۔" حمدا نے آہستہ سی آواز میں کہا تو وہ بولیں ۔
" کیسی باتیں کر رہی ہو ، کسے نہیں چاہئیے ہوتی اولاد اور اگر رحمت کی بات کر رہی ہو تووہ تو اس کی پہلی بیوی سے ہے ، انشاءاللہ جیسے ہی تم اسے اچھی خبر سناؤ گی وہ بدل جائے گا ۔" اور حمدا خاموش رہی ( لیکن انہوں نے تو کبھی مجھے دل بہلانے کے سوا چھوا ہی نہیں ، جیسے میں صرف ان کے لیے تفریح کا سامان ہوں ) حمدا یہ صرف سوچ کر ہی رہ گئ ۔ اور سفینہ نے یہ سوچا کہ وہ اپنی بیٹی کو سمجھا چکی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج بھی یہ باتیں ان کو تکلیف دیتی تھیں ۔
**************
اگلے دن اتوار کی چھٹی تھی تو حمدا تھوڑا دیر سے اٹھی ، جب باہر لان میں آئ تو وہاں پر رودابہ گملے میں نئے پودے اگا رہی تھی ۔ منہ ہاتھ دھو کر ماہ نور کو ناشتے کا کہا اور لان میں رودابہ کے پاس آگئ ، " کیا ہو رہا ہے جناب ؟ " ، " میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف اپنا کردار ادا کر ہی ہوں ۔" حمدا کو اسی طرح کے جواب کی امید تھی لیکن ابھی رودابہ کی بات ختم کہاں ہوئ تھی ، " جانتی ہیں آپی ہم سبھی لوگوں کے گھروں میں کم از کم ایک خالی گملا ضرور ہوتا ہے ، جس کا پودا خراب ہو جاتا ہے یا سوکھ جاتا ہے ، اور ہم کیا کرتے ہیں پہلے اپنی غفلت کی وجہ سے اس پودے کو مار دیتے ہیں اور پھر اس گملے کو بھی ویران کر دیتے ہیں ،" حمدا نے اس کی ہاں میں ہاں ملائ ، "ہم سبھی چاہتے ہیں کہ گرمی کم پڑے ، بارشیں اپنے وقت پر ہوں ، آلودگی کم ہو جائے لیکن ہم اپنے ہی گھروں سے شروات نہیں کرتے ، میں اس چیز کو بدلنا چاہتی ہوں ، آپ جانتی ہیں اگر میں ایسا کروں گی تو مجھے دیکھ محلے والے ان کو دیکھ دوسرے محلے والے اور پھر یہ دائرہ بڑھتا چلا جائے گا اور ایک دن ایسا آۓ گا جب بارشیں بھی اپنے وقت پر ہوں گی اور گرمی بھی اتنی زیادہ نہیں ہو گی ۔" حمدا نے رودابہ کی آنکھوں میں چمک دیکھی جیسے وہ آنے والا خوشحال کل دیکھ رہی ہو ، لیکن ساتھ ہی اس کی پریشانی نے وہی رکشہ کروایا اور اس کے دماغ میں واپس آگئ ۔
" اب آپ مجھے بتائیں گی کہ کیا چیز آپ کو پریشان کر رہی ہے ، اگر خضر بھائ نے پھر سے کوئ مسئلہ کیا ہے تو آئیں ابھی پولیس سٹیشن چلتے ہیں ۔" اور بہنیں تو ایک دوسرے کی دل کی باتوں سے واقف ہوتی ہیں نا ، حمدا نے حزلان سر کے ساتھ ہونے والی پہلی ملاقات بتائ جس میں سے کئ باتیں وہ گول کر گئ ۔ رودابہ پہلے تو چند لمحے رکی پھر بولی ، " جہاں تک میرا خیال ہے آپ کے سر آپ کی تعریف کریں گے ، یہ بال پیچھے کریں ،" رودابہ نے اپنا ماتھا حمدا کے آگے کیا کیونکہ اس کے ہاتھ گیلی مٹی سے بھرے ہوۓ تھے ، "اور موبائل سے میرے ہاتھوں کی تصویر بنائیں ، اور پریشان نا ہوں سر کچھ بولے تو شیرازی سر سے سفارش کروا لیجیے گا ، پریشانی والی بات نہیں ہے آپ نے ان کو کچھ غلط نہیں کہا تھا ۔ " حمدا کو تھوڑا سکون ملا ۔ رودابہ ہاتھ دھو کہ آئ اتنے میں ماہ نور ناشتہ بنا لائ ، اب رودابہ اپنے ایک لگاۓ ہوۓ پودے کی تصاویر لے رہی تھی تو ماہ نور بولی ، " رودابہ اب یہ مت کہنا کہ تم یہ تصاویر میرے پیج پر لگاؤ گی ۔"
" مس ماہ نور مجھے یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہے اور ویسے بھی وہ آپ کا نہیں ہمارا پیج ہے جس میں R سے رودابہ ہے اور M سے تم ہو ، اور ہاں میں تصویریں لگا چکی ہوں ۔ " رودابہ نے ذرا پرواہ نا کی ۔ "آپی آپ ہی بولیں اسے کچھ ہم نے art and craft کا پیج بنایا اور یہ ہے کہ۔۔۔۔۔“
”اگر آپ ایک پودا اگائیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو امید ہے مستقبل کی ، خوشحالی کی اور اچھے کل کی ، ایسا کرنے سے آپ آلودگی کے خلاف اپنا قدم اٹھاتے ہیں۔" رودابہ نے یہ کہا اس کا مطلب تھا کہ وہ پوسٹ کرچکی ہے اب کوئ فائدہ نہیں ۔ حمدا آرام سے ناشتہ کرنے لگی ، ”تمہارے پیپرز کب ہیں ماہ نور ؟“ ۔
” اگلے مہینے ہیں آپی اور رات میں میں نے آپ کیلیے کچھ کاغذ کے پھول بنا دیے تھے وہ کل کرافٹ سینٹر یاد سے لے جائیے گا ۔ “
” شکریہ “ دونوں مسکرا دیں ۔
****************
اگلے دن حمدا یہ عزم لے کر حزلان کے آفس میں گئ کہ اس نے کچھ غلط نہیں کہا تھا (بلکہ بہت غلط کہا تھا ) اس کی رفتار پھر کم ہو گئ ، ( اللہ آپ کو تو پتا ہے نا کہ میں نے کچھ جان بوجھ کر نہیں کیا تھا ، پلیز اللہ جی۔۔۔۔۔) وہ ذرا اونچا سوچ رہی تھی جب پیچھے سے آنے والی مردانہ آواز نے اس کو منجمد کر دیا ، ” مس آپ مجھے اندر جانے کا راستہ دیں گی تب تک شاید اللہ بھی آپ کی سن لیں ۔“
حمدا جیسےہی گھومی تو حزلان کی آنکھیں خوشگوار حیرت سے مزید کھل گئیں ۔
”آپ ؟ “
” میں حمدا ہوں سر ، اور آپ۔۔۔۔۔غالباً حزلان سر ہیں۔"
" غالباً نہیں یقیناً میں ہی حزلان ہوں اور مجھے” سر حزلان “کہیں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔" یہ اس نے اپنے آفس کے اندر آتے ہوئے کہا تھا ( آج کا دن بڑا خوشگوار ہو گیا ) وہ پچھلے دو دنوں سے ہی حمدا کو لاشعوری طور پر سوچے جا رہا تھا ۔
" مجھے” حزلان سر “ اتنا پسند نہیں آیا ۔ "
" لیکن میں شیرازی سر کو شیرازی سر کہتی تھی ۔" حمدا بھی اس کی فرمائش کو خاطر میں نا لائ ، تو حزلان بولا ، " مجھے دیکھیں۔۔۔۔۔ نہیں نہیں واقعی مجھے دیکھیں اور بتائیں کہ میں کون ہوں ؟ " اب حمدا اس کا مطلب سمجھی تو بولی ، " آپ حزلان سر ۔ ۔ ۔آئ مین سر حزلان ہیں ۔"
" گڈ جلدی سیکھ گئیں آپ تو ، مجھے لگا تقریر کرنی پڑے گی ۔" حمدا اس کا طنز خوب اچھی طرح سمجھ گئ لیکن بولی کچھ نہیں ، وہ بول بھی کیسے سکتی تھی ۔
” تو مس حمدا کیا آپ کو یہاں جاب کسی کی سفارش سے ملی ہے۔“ حزلان نے جس انداز سے کہا تھا حمدا کے جسم میں کرنٹ دوڑ گئ ۔
” ننہ نہیں۔۔۔۔نہیں سر ، وہ شیرازی سر نے۔۔۔۔“ ، حمدا سے بولا نہیں جا رہا تھا ۔
” اوہ۔۔۔۔۔ تو شیرزی انکل نے سفارش کی تھی آپ کی۔“ حزلان نے جس طرح لفظ سفارش بولا حمدا کو اپنی توہین لگی تو بولی ، ” آپ ان سے خود پوچھ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔یا پھر۔۔۔۔۔یا پھر میرا ریکارڈ دیکھ لیں ۔“ آخر حمدا نے ہمت کر کے کہہ ہی دیا ، اور ایسا کہنا فائدہ مند ثابت ہوا ۔ حزلان کے چہرے پر ایک رنگ آرہا اور جا رہا تھا اور بلآخر جو رنگ آیا وہ تھا تعجب کا ۔
اس نے گلا کھنگال کر بات شروع کی ، ” ویل مس حمدا یور ورک رئیلی امپریسڈ می۔“ حزلان کو اس وقت دنیا کا سب سے مشکل کام حمدا کی تعریف کرنا لگا ، وہ چند لمحے رکا پھر بولا ، ” میں امید کرتا ہوں کہ آپ آگے بھی اپنا کام پوری ایمانداری سے کریں گی ۔“، حزلان نے اتنا کہا اور جیسے اس کے سارے الفاظ ختم ہو گۓ جبکہ حمدا سرجھکاۓاپنی تعریفیں سننےمیں مصروف تھی اور اس کے ہونٹوں پر بڑی شریر سی مسکراہٹ تھی ، جسےحزلان نے نوٹ کر لیا تھا ، ” یو مے گو ناؤ ۔“
حمدا نے یہ سنا تو حیرت سے اسے دیکھنے لگی اور بلا اختیار بولی ، " بس ؟ " اور بول کے پچھتائ ۔
” بس مطلب ؟ “
” نہیں میرا مطلب ہے میں چلتی ہوں ۔ “
” ایسے کیسے، آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کی تعریف میں کوئ دیوان لکھوں؟“ حزلان کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ اسے چڑا رہا ہے ۔
” میں نے یہ تو نہیں کہا ۔ “ حمدا نے پریشان ہوتے ہوئے کہا
"آپ کا مطلب تو یہ ہی تھا نا ۔"
"آپ کیسے کہہ سکتے ہیں یہ ، آپ کو کوئ حق نہیں ہے دوسروں کو جج کرنے کا ، جبکہ آپ دلوں کے حال نہیں جانتے۔" حمدا کو اب غصہ آرہا تھا اور اس کی آنکھیں چمکنے لگیں تھیں ۔
" ٹھیک ہے ٹھیک ہے آپ جا سکتی ہیں ۔" حزلان نے اس کی آنکھوں میں پانی ابھرتا دیکھا تو اجازت دےدی اس سے پہلے کہ اس کا پارہ ہائ ہوتا حزلان نے یہ ہی بہتر سمجھا۔ اور حمدا نے جاتے ہوئے دروازہ اتنی زور سے مارا کہ حزلان دیکھ کر حیران رہ گیا ، ( اتنے غصے والی بات تو نہیں تھی
اتنے میں دروازہ کھول کر احمد اندر آیا ، ” بھئ کیا سین ہے کیا ہوا اور یہ لڑکی کون تھی جو غصے میں گئ ہے ؟ " ، حزلان نے بتایا تو اس کا ہنس ہنس کے برا حال ہو گیا ، " نہیں یار واقعی وہ لڑکی پھر تجھے اتنا ذلیل کر کے گئ اور تو بھیگی بلی بنا سنتا رہاـ" اس بات پر حزلان آپے سے باہر ہو گیا اور غصے سے اٹھ کر حمدا کے کیبن کی جانب چل پڑا ۔ جبکہ احمد " ارے ارے" ہی کہتا رہ گیا ۔ لیکن حمدا کے کیبن کے دروازے پر کھڑے ہو کر سنی جانے والی گفتگو نے اس کو سکتے میں ڈال دیا ۔