Orhan

Add To collaction

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے
از دیا مغل 
قسط نمبر1

"آج زجاجہ یونی نہیں جائے گی "۔۔۔۔ اس نے کمبل کو مزید لپیٹتے ہوئے اماں کو اطلاع دی 
"کیوں ۔۔۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تیری زجاجہ ؟؟؟" اماں کی تشویش تو بنتی تھی کیونکہ وہ کبھی چھٹی نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔ یونی وہ واحد جگہ تھی جہاں وہ بہت شوق سے جاتی تھی ۔۔۔۔ 
"بس اماں آج دل نہیں چاہ رہا "۔۔۔ اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا "لیکن جانا تو ہے ۔۔۔ سو میں اٹھ رہی ۔۔۔۔آپ بس ناشتہ ریڈی کریں "۔۔۔ اس نے اماں کا گال چومتے ہوئے بیڈ سے چھلانگ لگائی ۔۔۔۔۔ اماں محض مسکرا کر رہ گئیں ۔
----------------------------------؛؛
یونی پہنچ کر اس نے بیا کی تلاش میں نظر دوڑائ۔۔۔۔۔ اس کی توقع کے عین مطابق بیا کلاس کے ایک گروپ کے ساتھ کسی سیاسی مسئلے پر بحث کر رہی تھی ۔۔۔۔ "یہ لڑکی باز نہیں آئے گی "۔۔۔۔ زجاجہ نے خودکلامی کرتے ہوئے کہا اور بیا کی طرف قدم بڑھا دیے جہاں وہ پوری دلجمعی سے تقریر کرنے میں مصروف تھی ۔۔
"بیا ۔۔۔۔ چلو میں نے لائبریری جانا ہے " کلاس فیلوز سے سلام کرنے کے بعد زجاجہ بیا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی اور اس کے احتجاج کے باوجود اس کو وہاں سے لے آئ ۔۔۔ ۔۔
"زجی اتنا اچھا ٹاپک چل رہا تھا یار ۔۔۔۔ تم خود بیٹھنے کی بجائے مجھے بھی لے آئ "۔۔۔۔ بیا نے ناراض ہوتے ہوئے کہا
"آج موڈ نہیں ہے یار "۔۔۔ اس نے بس اتنا ہی جواب دیا۔
بیا عثمان اور زجاجہ سکندر بہت قریب تھیں ایک دوسرے کے ۔۔۔۔ ان کی اور بھی فرینڈز تھیں لیکن ان کی آپس کی کوئی بات ایسی نہیں تھی جو ایک دوسرے سے مخفی ہو ۔۔۔بیا کے مقابلے میں زجاجہ زیادہ شوخ تھی ۔۔۔۔ اس کا اپنا ایک انداز تھا ۔۔۔۔ شرارت ۔۔۔ شوخی ۔۔۔ اپ ٹو ڈیٹ رہنا ۔۔۔۔ سب زجاجہ سکندر کو بخوبی آتا تھا اور اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں سامنے والے کو مجبور کر دیتی تھیں کہ وہ زجاجہ سکندر پر توجہ دے ۔۔۔۔ لیکن زجاجہ سکندر خود کسی پر بھی توجہ دینا اپنے معیار سے گرنا خیال کرتی تھی ۔۔۔۔
--------------------------- 
وہ بھی ایک عام سا دن تھا ۔۔۔۔ کلاس ختم ہوئی تو وہ اور بیا کیفے کی طرف جا رہی تھیں کہ زجاجہ ایک گروپ سے کچھ فاصلے پر رک گئی ۔۔۔۔ وہ لوگ محبت پر بحث کر رہے تھے ۔۔۔۔ 
"زجی پلیز اب اس بحث میں مت کود پڑنا ۔۔۔۔ زوروں کی بھوک لگی ہے "۔۔۔۔ بیا نے اس کا ارادہ بھانپتے ہوئے التجا کی۔
"آؤ نا ۔۔۔۔دیکھتے ہیں کیا چل رہا ہے ۔۔۔۔ ثنا لوگ ہیں "۔۔۔۔ وہ بیا کو بھی ادھر ہی لے گئی
"محبت کی تعریف ممکن ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ بڑے سے بڑا رائٹر اور شاعر بھی آج تک کوئی جامع تعریف نہیں دے سکا اس جذبے کی "۔۔۔۔ وہ حیدر تھا ۔۔۔۔ کلاس کا بہت اچھا سٹوڈنٹ اور زجاجہ کی گڈ بکس میں شامل بہت کم لوگوں میں سے ایک نام حیدر کا بھی تھا ۔۔۔۔
"سائنس کہتی ہے ہر چیز کی تعریف ممکن ہے "۔۔۔۔ حیدر کے ساتھ ہی زمین پر بیٹھتے ہوئے زجاجہ نے بحث میں اپنا حصہ ڈالا اور ثنا کے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ لے لیا ۔۔۔۔ جس کے جواب میں ثنا نے اس کو بھر پور طریقے سے گھورا
"رائٹ ۔۔۔ لیکن ہر چیز کی ۔۔۔۔ ہر جذبے کی نہیں "۔۔۔۔ ثمر نے زجاجہ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا نقطہ پیش کیا
زجاجہ نے ثمر کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ جو آنکھوں میں شوق کا ایک جہاں آباد کئے اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ "محبت توہم پرستی ہے اور کچھ نہیں "۔۔۔۔۔ زجاجہ نے اپنی طرف سے محبت کی تعریف کی اور جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔
"اے زجی ۔۔۔۔ کدھر جا رہی ہو ۔۔۔۔ ابھی تو بات شروع ہوئی ہے یار ۔۔۔۔ آؤ بیٹھو نا ۔۔۔۔ " حیدر نے اس کو روکنا چاہا ۔
"آج موڈ نہیں ہے بحث کا۔۔۔۔ یو پیپل کیری آن پلیز " اس نے مسکرا کے کو ہاتھ ہلایا اور گھر کے لئے نکل آئ ۔
---------------------؛؛؛
وہ رات کو اخبار اور اپنا سٹار پڑھ کر سویا کرتی تھی ۔۔۔۔ یہ اس کی بہت پرانی عادت تھی ۔۔۔۔۔ اس کے سب دوست اس کا مذاق اڑاتے کہ زجی دیکھتی ہے آج دن کو اس کے ساتھ کیا کیا ہوا ۔۔۔۔ لیکن وہ پھر بھی ہر حال میں رات کو ہی "آج کا دن " پڑھتی تھی ۔۔۔۔ اس کی نظر ایک اشتہار پر پڑی ۔۔۔۔ ایک پرائیویٹ سکول کواردو ٹیچر کی ضرورت تھی ۔۔۔۔ اور وہ اردو ادب ہی پڑھ رہی تھی ۔۔۔۔ اس کے دل میں کوئی خیال آیا اور اس نے حیدر کا نمبر ملا دیا 
"ہیلو "۔۔۔۔ دوسری طرف سے نیند میں ڈوبی آواز ابھری
"حیدر جاگو نا ۔۔۔ ضروری بات کرنی ہے میں نے "
کیا ہوا زجی ۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے نا " حیدر پریشان ہوتے ہوئے بولا
"میں نے جاب کرنی ہے "۔۔۔۔ اس نے بغیر کسی تمہید کے اپنی بات کی
"وہاٹ ۔۔۔۔۔ رات کے 12 بجے کون سی جاب آفر ہوئی ہے تمہیں "۔۔۔۔ حیدر نے مذاق اڑایا ۔۔۔۔ 
"ابھی میں نے ایڈ دیکھا ہے حیدر ۔۔۔۔ ایک سکول کو اردو ٹیچر کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ "
"اچھا جی ۔۔۔۔ صبح بات کرتے ہیں اس پہ ۔۔۔۔ اب سو جاؤ "۔۔۔۔ حیدر نے نرمی سے جواب دیا 
"اوکے ۔۔۔۔ گڈ نائٹ " زجاجہ نے مسکرا کر کہا اور فون بند کر دیا ۔۔۔۔۔ 
"حیدر کتنا اچھا ہے نا ۔۔۔ بہت اچھا انسان اور بہت پیرا دوست ۔۔۔ جبکہ ثمر کو دیکھ کر ہی میں چڑ جاتی ہوں ۔۔۔صرف اس کے انداز کی وجہ سے "۔۔۔۔ اس نے دونوں کے بارے میں سوچتے ہوئے آنکھیں موند لیں ۔
________________________
"عشق محبت سے آگے کا جذبہ ہے ۔۔۔۔۔ یا یوں کہہ لیں کہ اگلا سٹیشن ہے ۔۔۔۔۔ جہاں پہنچ کر لگتا ہے کہ ہم نے ادھر ہی تو پہنچنا تھا ۔۔۔۔۔ اور پھر ایک وقت آتا ہے جب لگتا ہے کہ سارا سفر رائیگاں گیا ۔۔۔۔ یہ تو کچھ ہے ہی نہیں ۔۔۔۔۔ کوئی وجود ہی نہیں اس کا ۔۔۔۔ اس مقام پہ انسان فنا ہوتا ہے اور وہاں سے پھر بقا شروع ہوتی ہے "۔۔۔۔۔ پروفیسر ارشد نے اپنی بات مکمل کی اور کلاس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
"سر بقا کے لئے فنا ہونا ضروری ہے کیا " ایک طرف سے سوال آیا
"کبھی کبھی ضروری ہوتا ہے ۔۔۔۔ " ڈاکٹر ارشد نے جواب دیا اور اپنی بات جاری رکھی " انسان کے ظہور کے ساتھ ہی اس کو بتا دیا گیا تھا کہ واپس آنا ہے اور فنا ہو کے آنا ہے تب باقیوں میں شامل ہو گے ۔۔۔۔۔ لیکن یہاں جس فنا کی بات ہو رہی ہے وہ اور ہے ۔۔۔۔۔ یہ فنا عشق کی فنا ہے ۔۔۔۔چاہے رحمان سے ہو یا انسان سے ۔۔۔۔۔ جو خود کو مٹا گیا وہی خود کو پا گیا ۔۔۔۔۔۔یہ نقطہ سمجھ میں آتا ہے لیکن اس کے لئے فنا پھر شرط ہے " انہوں نے اپنا پین بند کرتے ہوئے لیکچر ختم کیا ۔
"سر ارشد کا تعلق بھی تم لوگوں کے قبیلے سے ہے " زجاجہ نے بیا اور ثنا سے کہا اور ہنس دی۔
"تم نہیں سمجھو گی اس لئے میں سمجھانا نہیں چاہتی ۔۔۔۔ ثنا نے "مزید کوئی بات نہیں " کا سگنل دیا تو زجی کو خاموش ہونا پڑا ۔
حیدر ۔۔۔۔۔ پلیز پتا کروا دو نا اس جاب کا ۔۔۔۔۔۔ وہ حیدر کے سر پہ کھڑی اس کی منت میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔
"آر یو سیریس زجی ؟ تم جاب کرو گی واقعی ؟؟؟" حیدر نے بے یقینی سے کہا 
"کیوں ۔۔۔۔اس میں حیران ہونے کی کیا بات ہے ۔۔۔۔۔میں نہیں کر سکتی کیا "۔۔۔۔۔۔۔ زجاجہ غصے سے بولی
"اوکے اوکے ضرور کرو ۔۔۔۔۔۔ میں انفورمیشن لیتا ہوں پوری "۔۔۔۔ حیدر نے اس کو تسلی دی تو وہ مطمئن ہو گئی ۔۔۔۔
"ماما پڑھانا ہی تو ہے ۔۔۔۔۔ کون سا کوئی ایسا ویسا کام ہے جو آپ پریشان ہو رہی ہیں ۔۔۔۔ بابا آپ سمجھائیں نا ماما کو "۔۔۔۔ اس نے بابا کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔۔
"ضرورت کیا ہے زجی ۔۔۔۔۔ خود تو پہلے پڑھائی مکمل کر لو " ماما اسی نقطے پہ تھیں ۔
"اچھا اگر وہ کرنا چاہتی ہے تو تمہیں کیا اعتراض ہے ۔۔۔۔ کرنے دو اس کو ۔۔۔۔۔ اور تعلیم دینا تو سنت ہے میرے آقا کی " بابا نے اس کی سائیڈ لی
"چل یہ شوق بھی پورا کر لو " ماما کو اجازت دیتے ہی بنی
"یو پیپل آر گریٹ یو نو ۔۔۔۔۔۔۔ لو یو بابا " اس نے خوشی سے بابا کا ہاتھ چوما اور بیا کو کال ملا دی ۔
حیدر نے اسےتمام ضروری معلومات لے کر دیں اور وہ اگلے دن بیا کو ساتھ لے کر سکول پہنچ گئی ۔۔۔۔۔ وہ شہر کا ایک اچھا سکول تھا ۔۔۔۔ جس کا اندازہ وہاں موجود ہر چیز سے ہو رہا تھا ۔۔۔۔ انہیں ایک کمرے میں بٹھایا گیا۔۔۔۔۔ زجاجہ سکول سے کافی متاثر نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔ 
"یہ معیار ہے بیا ۔۔۔۔۔ جو ہونا چاہئے "۔ اس نے بیا کو مخاطب کیا
"یہ کمرہ ہے زجاجہ جو ہر جگہ ہوتا ہے"۔۔۔۔۔۔ بیا نے اسی کے انداز میں جواب دیا ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ زجاجہ ری ایکشن دکھاتی ایک باوردی شخص کمرے میں داخل ہوا اور ان کو پرنسپل کے آفس میں آنے کو کہا ۔۔۔۔۔ 
دونوں پرنسپل کے آفس میں داخل ہوئیں جہاں ایک بہت نفیس سے خاتون بیٹھی تھیں ۔۔۔۔۔ بےبی پنک قمیض اور سفید رنگ کے ٹراؤزر کے ساتھ سفید رنگ کا دوپٹہ سر پہ سلیقے سے جمائے ،کانوں میں سونے کے ہلکے سے خوبصورت ڈیزائن کے ایر رنگز پہنے وہ بہت سوبر لگ رہی تھیں ۔۔۔۔۔ انہوں نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ دونوں کو اندر آنے کی اجازت دی ۔ 
"السلام علیکم میم "۔۔۔۔۔ بیا نے سلام کیا 
"وعیلکم السلام ۔۔۔۔۔ آئیں بیٹھیں پلیز " انہوں نے نرمی سے جواب دیا 
"میں زجاجہ سکندر ہوں ۔۔۔۔۔۔ میں نے اخبار میں اشتہار دیکھا تھا آپ کے سکول کا کہ اردو ٹیچر ضرورت ہے آپ کو "
"جی ۔۔۔۔۔ کیا کرتی ہیں آپ ؟؟؟؟ میرا مطلب ہے آپ کی کوالیفیکیشن کیا ہے " انہوں نے زجاجہ سے پوچھا
"میں اردو ادب میں ایم فل کر رہی ہوں میم "زجاجہ نے مختصر جواب دیا
"ویری گڈ ۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں اچھی کوالیفیکیشن والی ٹیچر ہی چاہئے جیسا کہ آپ نے بتایا کہ آپ ابھی ایم فل کر رہی ہیں تو آپ اپنی یونیورسٹی بھی جاتی ہوں گی ۔۔۔۔۔ تو اگر آپ کو یہ جاب مل جاتی ہے تو سکول کیسےآیا کریں گی پھر " انہوں نے زجاجہ سے پوچھا
"میم میری کلاسز شام کی ہیں ۔۔۔۔۔ مجھے کوئی پرابلم نہیں ہو گا "۔۔۔۔۔ اس نے اعتماد سے جواب دیا
دو چار پیشہ ورانہ باتوں کے بعد مسز درانی نے زجاجہ سکندر کو اوکے کا سگنل دے دیا ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنی میز کے ساتھ لگے بٹن کو دبایا تو وہی باوردی شخص اندر داخل ہوا جو انہیں آفس تک لایا تھا ۔۔۔۔۔۔
"اشرف انہیں CE آفس لے جاؤ اور بولو کہ ان کو appointment letter ایشو کر دیں "مسز درانی نے پیون کو ہدایت کی
"آپ جائیں ان کے ساتھ ۔۔۔۔۔اینڈ ویلکم ٹو اور اسکول " انہوں نے زجاجہ کو جانے کا اشارہ کرتے ہوئے مسکرا کر کہا
"بہت شکریہ میم ۔۔۔۔۔۔ "زجاجہ نے خوشی سے ہاتھ مسز درانی سے ہاتھ ملایا اور دونوں پیون کے ساتھ باہر آ گئیں جو انہیں ایک اور آفس میں لے گیا ۔۔۔۔۔۔۔
"یار تم اکیلی جاؤ ۔۔۔۔۔ میں بور ہو رہی ہوں اس فارمل ماحول سے "بیا نے بیزاری سے کہا اور باہر ایک کرسی پر بیٹھ گئ
"ہمم ۔۔۔۔۔ اوکے میں آتی ہوں " وہ کہہ کر آفس میں داخل ہوئی
یہ آفس بھی پرنسپل آفس کی طرح ویل فرنشڈ تھا ۔۔۔۔۔ زجاجہ دل ہی دل میں داد دیے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔۔۔
"جی مس آئیں بیٹھیں پلیز " سامنے بیٹھے شخص نے زجاجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
وہ میز کے سامنے لگی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔ سامنے بیٹھا شخص شاید CE تھا ۔۔۔۔۔۔۔کاٹن کے سفید رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس ۔۔۔۔سلیقے سے بال بنائے ۔۔۔۔۔۔۔ بڑی بڑی بھوری آنکھوں والا وہ شخص بلا شبہ بہت شاندار 
شخصیت کا مالک تھا ۔۔۔۔ اس نے زجاجہ کو ایک فارم دیا 
"یہ فل کر دیں پلیز "۔۔۔۔۔۔
5 منٹ بعد اس نے زجاجہ کی طرف دیکھا جو فارم جوں کا توں ہاتھ میں لئے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ "اینی پرابلم مس ؟؟؟"
اس نے زجاجہ سے پوچھا
"وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پین نہیں ہے میرے پاس "۔۔۔۔۔۔ زجاجہ نے چونک کر کہا
"اوہ سوری ۔۔۔۔۔۔۔۔ لائیں مجھے دیں فارم "۔۔۔۔۔۔ اس نے فارم کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا جو زجاجہ نے خاموشی سے اس کے ہاتھ میں دے دیا
اس نے ضروری انفارمیشن فارم میں لکھی اور زجاجہ کے سائن لے کر فارم اپنے پاس رکھ لیا
"آپایک سال کے کنٹریکٹ پہ ہیں ۔۔۔۔۔۔ کنٹریکٹ پورا ہونے سے پہلےآپ سکول نہیں چھوڑ سکتیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مہینے میں ایک چھٹی آپ کا حق ہے۔۔۔۔۔۔ایک سے زیادہ چھٹی نہیں کر سکتیں آپ ۔۔۔۔۔۔ وقت کی پابندی کا خاص خیال رکھنا ہے ۔۔۔۔ آپ کا ٹائم ٹیبل آپ کو کل دے دیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ امید ہے آپ اچھا اضافہ ثابت ہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔ باقی تھوڑے کہے کو زیادہ سمجھیں "۔۔۔۔ اس نے اپنی بات مکمل کی اور زجاجہ کو "can go now" کا سگنل دے دیا ۔۔۔۔۔
زجاجہ نے جواب میں ایک لفظ بھی نہ کہا ۔۔۔۔۔وہ خود بھی اپنی کیفیت پر حیران تھی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ حافظ بول کر جانے کی لئے مڑی ۔۔۔۔ دروازے کے پاس پہنچ کر واپس مڑی اور میز پڑی نیم پلیٹ پر نظر ڈالی ۔۔۔۔۔۔ "ولید حسن CE " اس نے زیر لب پلیٹ پر لکھے الفاظ دہرائے اور باہر نکل آئ ۔۔۔۔۔۔۔

   1
0 Comments