جس تن نوں لگدی او تن جانڈے
جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر3
"کیا ہوا زجی " ماریہ اس کے اس طرح رونے پر پریشان ہو گئی تھی "چوٹ آئ کیا " "ہاں شاید " زجاجہ نے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔آنسو متواتر گر رہے تھے ۔ "ایسا کرو آج یونی مت جاؤ ۔۔۔تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے " ماریہ نے اسے مشورہ دیا ۔ عین اسی وقت ولید حسن کی گاڑی وہاں سے گزری ۔۔۔اس نے زجاجہ کو روتے دیکھا ۔۔۔ایک لمحے کے لئے رکنے کا سوچا اور پھر گاڑی آگے بڑھا لی ۔ زجاجہ گھر آ گئی ۔۔۔۔ ماما کو طبیعت کی خرابی کا بتا کر وہ اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گئی ۔ "یہ میں تو نہیں ہوں ۔۔۔کیا ہوتا جا رہا ہے مجھے ۔۔۔۔ محبت اور میں ۔۔۔۔ کوئی جوڑ ہی نہیں تھا ۔۔۔۔پھر یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔ اگر ولید حسن نے مجھے ٹھکرا دیا تو ؟؟؟؟ اگر وہ کسی اور کو چاہتا ہوا تو ؟؟؟؟ "اس کے سامنے بہت سے سوالیہ نشان تھے جس کا جواب ابھی اس کے پاس نہیں تھا ۔۔۔ وہ ولید حسن کو جانتی ہی کتنا تھی ۔۔۔۔صرف یہ کہ وہ سکول کا چیف ایگزیکٹو تھا ۔۔۔۔ اور آج اس کی سوچ اس کا نظریہ سب بدل گئے تھے ۔۔۔۔ وہ بھی وہمی ہو گئی تھی ۔۔۔ اس کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو نکل پڑے ۔۔۔۔ "یا اللہ میری مدد فرما " اس نے دل سے دعا مانگی ۔۔۔۔ پتا نہیں کب اس کی آنکھ لگ گئی ۔۔۔ کھلی تب جب بابا اس کے پاس کھڑےاسے آواز دے رہے تھے ۔۔۔ "جی بابا " وہ فورا اٹھی ۔ "کیا ہوا میری بیٹی کو۔۔۔تمہاری ماما بتا رہی تھیں طبیعت ٹھیک نہیں تمہاری " بابا نے پیار سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا ۔ "کچھ بھی نہیں بابا ۔۔۔ ماما کا تو پتا ہے نا آپ کو چھوٹی سی بات پر پریشان ہو جاتی ہوں " وہ مسکراتے ہوئے بولی "آر یو شیور " سکندر علی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔ "یس بابا ۔۔۔۔ 100% شیور " وہ اطمینان سے بولی ۔ "گڈ ۔۔۔۔جلدی آؤ پھر ۔۔۔چائے پیتے ہیں " بابا نے اس کا سر تھپکا اور چلے گئے ۔ "ابھی آئ ۔۔۔۔"وہ نرمی سے بولی ۔۔۔ "تو بات یہاں تک آ پہنچی ہے ولید حسن " اس نے گہری سانس لی۔۔۔ہاتھوں سے بال ٹھیک کئے اور جوتے پہن کر اٹھ گئی ۔۔
اگلے دن سکول میں اس کا سامنا صبح صبح ہی ولید سے ہو گیا ۔اس نے رک کر سلام کیا تو ولید نے اپنے آفس میں آنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ۔۔۔۔ وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتی آفس میں داخل ہوئی ۔ "بیٹھیں پلیز " ولید نے گاڑی کی چابی میز پر رکھتے ہوئی کہا ۔" مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ اس یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں ۔۔۔۔ " "جی سر " وہ اتنا ہی بول پائی ۔سب کو چپ کروا دینے والی زجاجہ سکندر اس یونانی دیوتا کے سامنے آ کر خود چپ ہو جایا کرتی تھی ۔ "آپ کے ساتھ آپ کی دوست تھیں شاید ۔۔۔۔۔مجھے مناسب نہیں لگا آپ سے بات کرنا ۔۔۔۔ ہر جگہ ہم کسی اور امیج کے ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ " "اف آپ کی سوچ اور انداز ۔۔۔۔۔۔ میرا پاگل ہونا تو بنتا ھے " وہ محض سوچ کر رہ گئی ۔ "وہ مجھے میم نے بلایا تھا سر ۔۔۔۔ اف یو ڈونٹ مائنڈ تو میں جاؤں ؟؟" یاد آنے پر وہ تیزی سے اٹھی ۔ ولید حسن فون پر مصروف تھا ۔۔۔ ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا ۔۔۔۔۔ اور وہ کال بند کر کے ایک اور نمبر ملا دیا ۔ "جی مما ۔۔۔۔ آپ نے مس زجاجہ کو بلوایا تھا ۔۔۔۔ شی از ان مائی آفس پلیز ۔۔۔۔ وی آر ان آ شارٹ میٹنگ ۔۔۔۔ بھیجتا ہوں میں ان کو آپ کی طرف " اس نے کال بند کر کے زجاجہ کی طرف دیکھا جو حیرت کی تصویر بنی بیٹھی تھی ۔ "آر یو اوکے مس " ولید نے اسے حیرت زدہ دیکھ کر پوچھا ۔ "مسز درانی آپ کی مدر ہیں ؟؟؟" زجاجہ نے سوال کیا ۔ "جی ۔۔۔۔ وہ مدر ہیں میری " ولید نے مختصر جواب دیا اور ایک فائل کھول کر اسے کچھ سمجھانے لگا ۔تو زجاجہ کو بھی خود کو حیرت کے سمندر سے نکال کر فائل کی طرف متوجہ ہونا پڑا ۔ "یار وہ مسز درانی کے بیٹے ہیں " اس نے آتے ساتھ بیا کو اطلاع دی ۔ "کون " اس نے لاپرواہی سے پوچھا "ولید سر اور کون" زجاجہ نے چڑ کر کہا کیونکہ بیا اس کی بات دھیان سے نہیں سن رہی تھی۔ "اچھا "۔۔۔۔۔ بیا کو بھی حیرت ہوئی "یعنی تم پاور میں ہو " اس نے مذاق اڑایا "ہا ہا ہا ۔۔۔۔ شاید "زجاجہ نے اس کے مذاق کا سیریس جواب دیا ۔ "سن تو ان کو بتائے گی کیا کہ تو ان کو لائیک کرتی ھے "بیا کا سوال غیر متوقع تھا ۔۔۔ اس بارے میں تو زجاجہ نے خود بھی نہیں سوچا تھا ابھی ۔ "پتا نہیں ۔۔۔۔۔ شاید بتا بھی دوں "وہ چہکی ۔ "گڈ ۔۔۔۔ یو بریوو" بیا نے طنز کیا تو ایک بار پھر زجاجہ کھل کر ہنس دی ۔ -----------؛ ولید حسن بہت دنوں سے زجاجہ کی غائب دماغی محسوس کر رہا تھا ۔۔۔پہلے تو اس نے توجہ نہ دی کہ نئی ھے ۔۔۔۔ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گی لیکن اب وہ یونی میں بھی اس کا سامنا ہونے پر کچھ غیر معمولی محسوس کرتا ۔ اس نے کچھ سوچا اور اٹھ کر مسز درانی کے کمرے میں آ گیا ۔ "مما سو تو نہیں رہی تھیں " وہ ان کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔ "نہیں مما کی جان ۔۔۔ کوئی بات کرنی ھے کیا "انہوں نے بہت پیار سے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھا جو ہر لحاظ سے ایک بہترین بیٹا تھا ۔ "جی ۔۔۔میں نے زجاجہ سکندر کے بارے میں بات کرنا تھی ۔۔۔وہ کیسی ٹیچر ہیں۔ "اس نے پوچھا "اچھی بلکہ بہت اچھی ہے ۔۔۔بہت جلد اس نے پک کیا ہے ہمارا سسٹم ۔۔۔۔ لگتا نہیں کہ اس کی پہلی جاب ہے ۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔تمہیں کوئی شکایت ہے اس سے "انہوں نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے سوال بھی کر دیا ۔ "ہمم ۔۔۔نہیں شکایت تو نہیں بس کبھی کبھی غائب دماغ سی لگتی ہیں اس لئے پوچھا "اس نے اپنے سوال کی وجہ بتائی "یو نو وہ اسی یونی میں پڑھتی ہیں جہاں مجھے جمشید ماموں نے لیکچر دینے کو کہا " "اچھا ۔۔۔۔ چلو اللہ پاک کامیاب کرے اس کو ۔۔۔اب تم بھی جاؤ ۔۔۔سو جاؤ۔۔۔۔ جمشید بھائی نے تمہیں اور مصروف کر دیا " انہوں نے پیار سے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا تو وہ ان کے ہاتھ چوم کر اٹھ گیا ۔ کمرے میں آ کر اس نے کچھ سوچا اور موبائل اٹھا کر زجاجہ کو میسج کر دیا ۔۔۔۔ وہ خد بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ۔ دوسری طرف سے جلد ہی جواب آ گیا "جی سر ۔۔۔۔ پوچھیں " "آپ کے گھر میں کوئی مسئلہ ہے کیا ۔۔۔۔۔آپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہیں کچھ دنوں سے " ولید نے اگلا میسج بھیجا ۔ " میرا پرسنل ایشو ہے ایک ۔۔۔۔سوری اگر مجھ سے ڈیوٹی میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو " زجاجہ کچھ اور سمجھ رہی تھی ۔ "نو نو ۔۔۔۔ اٹس ناٹ لائک دیٹ ۔۔۔۔ آپ پلیز بتائیں ۔۔۔ہو سکتا ہے میں کچھ مدد کر سکوں آپ کی "ولید نے اپنی خدمات پیش کیں ۔ "اس کے معاملے میں کوئی میری مدد نہیں کر سکتا سر "پتا نہیں کیسے وہ یہ بات لکھ گئی ۔ "کون ہے وہ ؟؟؟ آئ ول ہیلپ یو مس زجاجہ ۔۔۔ اف یو وانٹ تو شیئر دین گو آ ہیڈ پلیز " وہ ولید حسن تھا جو اپنے سٹاف کو ایک حد تک رکھنے کا قائل تھا لیکن آج اسے واقعی زجاجہ سے ہمدردی محسوس ہو رہی تھی ۔ "وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ ہیں سر " زجاجہ کا میسج بم بن کر اس کے اعصاب پر پھٹا تھا ۔