Orhan

Add To collaction

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر4

وہ زجاجہ سے اس جواب کی توقع نہیں کر رہا تھا ۔۔۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ زجاجہ اس کا نام لے گی ۔۔۔ وہ مخلوط تعلیمی نظام سے پڑھ کر نکلا تھا ۔۔۔۔ جہاں لڑکے لڑکیوں کی دوستی عام بات تھی لیکن ولید p حسن ان چیزوں سے دور رہا تھا ۔۔۔ اپنی پرکشش شخصیت کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں نے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا مگر جلد ہی اس کے رویے سے بیزار ہو کر پیچھے ہٹ گئی تھیں۔۔۔۔ اس کے لئے حیرانگی کی بات یہ نہیں تھی کہ کسی لڑکی نے اس کے لئے ایسا محسوس کیا تھا بلکہ وہ حیران اس لئے تھا کہ اظہار کرنے والی زجاجہ سکندر تھی ۔۔۔ وہ کچھ دیر موبائل کو ہاتھ میں لئے بیٹھا رہا پھر کچھ سوچ کر میسج ٹائپ کرنے لگا ۔۔۔۔ "میں جانتا ہوں میرا جواب تمہیں ہرٹ کرے گا لیکن میرے پاس اس کے علاوہ کوئی جواب ہے بھی نہیں زجاجہ سکندر "اس نے سوچا اور میسج بھیج دیا ۔ دوسری طرف زجاجہ اپنے اظہار کے بعد حیران تھی کہ یہ اس نے کیا کر دیا اور کیسے کر دیا ۔۔۔۔ وہ کسی صورت بھی ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اب ایک کمزور لمحہ اس کی زندگی میں آ کے گزر چکا تھا ۔۔۔۔ "کیا سوچیں گے وہ کہ کس طرح کی لڑکی ہوں میں ۔۔۔۔ جس کا کوئی وقار نہیں ۔۔۔ کوئی پندار نہیں ۔۔۔۔ کیا کروں اب ۔۔۔ کہتی ہوں میں مذاق کر رہی تھی ۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔ ہاں یہ ٹھیک رہے گا " اس نے میسج کرنے کے لئے موبائل اٹھایا ہی تھا کہ ولید کا میسج آ گیا ۔۔ "مس زجاجہ اگر آپ میرے لئے ایسی فیلنگز رکھتی ہیں تو میں قدر کرتا ہوں آپ کے جذبات کی ۔۔۔۔ کیونکہ اس کے علاوہ میں کچھ کر بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔ آئ ریسپیکٹ یو ۔۔۔۔ تھینکس آپ نے مجھے اس قابل سمجھا۔۔۔ بائے" "تو زجاجہ سکندر تمہیں ٹھکرا دیا گیا ۔۔۔۔ تمہارے جذبوں کی سچائی سمیت۔۔۔۔ " اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے "ابھی تو دل پوری طرح دھڑکا بھی نہیں تھا آپ کے نام پہ ۔۔۔ اور آپ نے۔۔۔۔۔ اچھا ہی ہوا آغاز سفر میں ہی یہ راز بھی کھل گیا ۔۔۔۔ پتا نہیں کیا ہوتا آگے چل کر "اس نے خود کو تسلی دی ۔۔۔۔ لیکن آنکھیں اس کی تسلی کو قبول نہیں کر رہی تھیں ۔۔۔۔ روتے روتے پتا نہیں کس پہر اس کی آنکھ لگ گئی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح معمول کے مطابق اس کی آنکھ فجر کی اذان کے ساتھ ہی کھل گئی ۔۔۔۔ سر کچھ بھاری سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس نے اٹھ کر وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔ "یا اللہ میری مدد فرما ۔۔۔اسے میرے دل سے نکال دے یا اسے میرے لئے آسان کر دے ۔۔۔۔ میرے مالک میں بہت کمزور ثابت ہوئی ولید حسن کے معاملے میں ۔۔۔۔ مجھ پر رحم کر " اس نے کائنات کے خالق کے سامنے اپنی عرضی رکھی اور پرسکون ہو گئی ۔۔۔۔ سکول پہنچ کر اس کا دھیان بٹ گیا ۔۔۔۔ جس کی وجہ سے اس کا موڈ بھی تھوڑا بہتر ہو گیا تھا ۔۔۔۔ وہ ہاف ٹائم بریک میں سٹاف روم میں بیٹھی بیا سے بات کر رہی تھی کہ ماریہ نے زور دار انٹری دی۔۔ "بریکنگ نیوز ہے لیڈیز ۔۔۔۔ سٹاف ٹرپ جا رہا ہے ۔۔۔۔ یہ مجھے بھی نہیں پتا کب اور کہاں " "تو نیوز بریک کرنے کی کیا ضرورت تھی پھر " مس افشاں نے کہا "لو جی ۔۔۔۔ایک تو خبر دی اوپر سے غصہ ۔۔۔ نیکی کا تو دور ہی گزر گیا " اس نے مصنوعی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ "صحیح بتاؤ نا ماریہ ۔۔۔۔ سچ میں ٹرپ جا رہا ہے کیا ؟؟" زجاجہ نے پوچھا "یس سویٹ ہارٹ ۔۔۔ اندر کے بندے نے بتایا ہے کہ ولید سر ٹرپ پلان کر رہے ہیں بہت جلد " "ہمم ۔۔۔۔ چلو دیکھتے ہیں کتنا جلد " مس آسیہ نے جواب دیا ۔۔۔۔ "میم تو جائیں گی نہیں اور سر بولیں گے مس میں کیا کروں گا جا کے ۔۔۔۔ تو پیچھے رہ گئے ہم لوگ ۔۔۔ تو کیا مزہ آنا " "سب جائیں گے ۔۔۔ ایک بار ڈیٹ کنفرم ہونے دیں " زجاجہ کے لبوں پہ انوکھی سی مسکراہٹ آ گئی ۔۔۔۔ پتا نہیں وہ کیا سوچ رہی تھی ۔۔۔ "بیا وہ کہتے ہیں کہ وہ میرے جذبات کی قدر کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے میرے لئے " وہ بیا کو پوری بات بتاتے ہوئے بولی "یہ بھی ان کی اچھائ ہے زجی ۔۔۔۔ ورنہ لوگ تو فائدہ اٹھاتے ہیں کسی کی فیلنگز کا ۔۔۔۔ اور کچھ عرصہ بعد چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ تمہیں اب سب کچھ برا لگ رہا ہے ۔۔۔ سوچو اگر وہ جھوٹ کہتے اور کچھ ٹائم بعد تمہیں حقیقت پتا چلتی تب تم کیا کرتی " بیا نے اسے تصویر کا دوسرا رخ دکھایا ۔۔ "ہمم ۔۔۔ یو آر رائٹ ۔۔۔ لیکن میں اس بندے سے دستبردار بھی نہیں ہو سکتی بیا ۔۔۔ بہت جلد وہ بہت دور تک بس گیا ہے مجھ میں " وہ بےبسی سے بولی تو بیا محض دیکھ کر رہ گئی ۔۔۔۔۔ ؛؛---------------؛-- ؛- "جمشید بھائی آپ نے میرے بیٹے کو مزید مصروف کر دیا ہے " مسز درانی نے بھائی سے شکوہ کیا ۔۔۔ "رات تک بزی رہتا ہے ۔۔۔ نہ کھانے کا ہوش نہ نیند کا خیال " "اوہو آصفہ عمر ہے اس کی کام کرنے کی ۔۔۔۔اور پھر ایک کلاس ہی لیتا ہے وہ ادھر ۔۔۔ زیادہ بوجھ نہیں ہے اس پر ۔۔۔۔ تم پریشان مت ہو ۔۔۔۔ " جمشید صاحب نے بہن کو تسلی دیتے ہوئے کہا "ویسے ہیں کدھر برخوددار ۔۔۔۔آج تو چھٹی ہے ۔۔۔۔آج بھی نظر نہیں آ رہا " "نقاش کے ساتھ گیا ہے ۔۔۔ وہ آیا تھا صبح ۔۔۔کہہ رہا تھا کسی سے ملنے جانا ہے " وہ بتا ہی رہی تھیں کہ ولید اور نقاش داخل ہوئے ۔ "السلام علیکم گھر والو " یہ نقاش تھا ۔۔۔۔ بلا کا شوخ مزاج ۔۔۔۔ نقاش آصفہ کی نند کا بیٹا تھا اور ولید کا بیسٹ فرینڈ تھا ۔۔۔۔ ولید کا فارغ وقت زیادہ تر اسی کے ساتھ گزرتا تھا ۔۔۔۔ "اہاں ۔۔۔پروفیسر انکل آئے ہیں ۔۔۔۔ مطلب میں بھاگوں ادھر سے " اس نے جمشید صاحب کو دیکھتے ہی چٹکلہ چھوڑا "ارے استاد ۔۔۔۔ ہم آپ کے شاگرد ہیں ۔۔۔آپ کیوں بھاگنے لگے بھلا " انہوں نے بھی جوابی حملہ کیا تو نقاش زور دار قہقہہ لگاتا ہوا ان کے پاس ہی بیٹھ گیا ۔ "مما چائے کی بہت طلب ہو رہی ہے ۔۔۔پلیز اچھی سی چائے پلوا دیں " ولید نے شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے کہا ۔ "ارے صاحب کوئی چائے بنانے والی لے آؤ اب ۔۔۔ جو تمہاری ماں کو بھی چائے بنا کے پلائے اور تمہیں بھی " جمشید ماموں نے دوسری طرف اشارہ کیا ۔۔ "ولید حسن اور لڑکی ۔؟؟؟؟ نو وے انکل " نقاش نے اپنے الفاظ کو لمبا کھینچتے ہوئے کہا تو ولید نے اسے گھورا ۔۔ "کیوں بھئی ۔۔۔ ہینڈسم ہو ۔۔۔پڑھے لکھے ہو ۔۔۔ویل سیٹلڈ ہو ۔۔۔۔ کبھی کوئی لڑکی نہیں آئ تمہاری زندگی میں کیا " جمشید صاحب نے بھانجے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ سر کھجانے لگا "اس نے آنے ہی نہیں دی " نقاش نے وجہ بیان کی ۔ "بکو مت ۔۔۔۔ " ولید نے اسے چپ کروایا "ایسے ہی مارتا ہے یہ ۔۔۔ کبھی کوئی ایسا اتفاق نہیں ہوا ماموں " "چلو ۔۔ہم خود ڈھونڈ لیتے ہیں کوئی ۔۔۔کیوں بھئی آصفہ ۔۔۔ کیا خیال ہے پھر ۔۔شادی کروائیں تمہارے بیٹے کی "انہوں نے بہن سے پوچھا "میں تو خود یہی چاہتی ہوں بھائی ۔۔۔یہ مانے تب نا ۔۔۔نہ خود کوئی لڑکی بتاتا ہے نہ مجھے کوئی دیکھنے دیتا ہے " انہیں نے شکوہ بھری نظروں سے بیٹے کو دیکھا ۔۔ "ہر بار کوئی نیا بہانہ بنا لیتا ہے " "اب کرے تو سہی کوئی بہانہ ۔۔۔بس تم لڑکی دیکھو کوئی " جمشید صاحب نے گویا فیصلہ سنایا ۔۔۔ ولید نے حیران ہو کر ماموں کی طرف دیکھا جبکہ نقاش اس کو انگوٹھا دکھا کر منہ چڑانے لگا ۔۔۔۔ ولید نے مسکرا کر چائے کا کپ اٹھا لیا ۔ -----------؛؛؛؛ "سلطان سر میم کدھر ہیں " زجاجہ نے میم کے آفس سے نکلتے ہوئے میم کے پی - اے سلطان سر سے پوچھا "میم تو آج چھٹی پر ہیں بیٹا ۔۔۔۔ " انہوں نے نرمی سے جواب دیا "کوئی کام ہے آپ کو " "آج میرا پیپر ہے ۔۔۔۔ میں نے جلدی جانا ہے ۔۔۔چھٹی چاہئے تھی ۔۔۔۔ لیکن اب کیا ہو گا میم تو ہیں ہی نہیں" وہ پریشاں ہوتے ہوۓ بولی "آپ ولید صاحب سے بات کر لیں۔۔۔ وہ بیٹھے ہوئے ہیں " سلطان سر نے اسے حل بتایا ۔ وہ "جی بہتر " کہہ کر آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔۔ وہ ولید کے سامنے نہیں جانا چاہتی تھی لیکن چھٹی لینا بھی ضروری تھا سو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس کے آفس کے باہر کھڑی تھی ۔۔ "مے آئ کم ان سر " اس نے اجازت مانگی ۔ "یس پلیز" ولید نے بغیر دیکھے کہا ۔ وہ اندر آ گئی ۔۔۔ "سر مجھے آج ہاف ٹائم کی لیو چاہئے ۔۔ میرا پیپر ھے ۔۔۔ " اس نے اپنے آنے کا مقصد بتایا ۔ ولید نے چونک کر سر اٹھایا ۔۔۔۔ زجاجہ نے نظریں جھکا لیں ۔۔ "جی مس ضرور ۔۔۔۔ آپ application چھوڑ جائیں " ولید نے اسے طریقہ بتایا ۔۔ وہ تھینکس کہتے ہوئے جانے کے لیے مڑی تو ولید نے آواز دی ۔۔ "مس زجاجہ " زجاجہ کا دل زور سے دھڑکا ۔۔۔ وہ رک گئی۔ "جی سر " ۔۔۔۔۔۔ اس نے ولید کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔ "میرے سائن کڑکروا لیجئے گا application پہ" اس نے زجاجہ کی طرف دیکھے بغیر کہا تو زجاجہ کا سانس بحال ہوا ۔۔۔۔ وہ "یس سر " کہتی باہر نکل آئ ۔ "انہوں نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی بیا ۔۔۔ نہ مجھے محسوس ہونے دیا " وہ بیا کو آج کی روداد سناتے ہوئے بولی ۔" وہ سچ میں بہت اچھے ہیں یار " بیا نے اس کی طرف دیکھا تو اسے زجاجہ کی آنکھوں میں انوکھی سی چمک دکھائی دی ۔۔۔۔ "میں مانتی ہوں زجی یہ سب اختیار میں نہیں ہوتا لیکن پھر بھی اتنی آگے مت جانا کہ واپسی ممکن نہ رہے وہ بھی اس صورت میں جب تم اس راستے پر اکیلی ہو " بیا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا "واپسی تو اب بھی ممکن نہیں رہی بیا ۔۔۔۔ میں دیوانی ہوتی جا رہی ہوں اس شخص کی ۔۔۔۔ اس کی ہر بات کی " زجاجہ کسی اور دنیا میں پہنچ چکی تھی ۔ "حالانکہ تم جانتی ہو کہ وہ بندہ تمہیں کچھ نہیں دے سکتا ۔۔۔۔ محبت کے دو لفظ بھی نہیں" "مجھے ان سے کچھ چاہئے بھی نہیں بیا ۔۔۔۔۔ میری کوئی طلب نہیں ۔۔۔۔ میں تو بس وہ کر رہی ہوں جو کرنا چاہتی ہوں " اس نے بیا کی بات کا جواب دیا ۔ اس سے پہلے کہ بیا کچھ کہتی اسے حیدر اور ثنا آتے دکھائی دیے تو اسے خاموش ہونا پڑا ۔۔۔۔ -------؛----------؛؛---؛ ولید حسن اس کی ایک نظر کو محسوس کرتا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن خاموش تھا ۔۔۔۔۔ اس دن کے بعد اسے زجاجہ کا کوئی میسج نہ آیا ۔۔۔۔۔۔ وہ بہت خاموشی سے اس کو چاہے جا رہی تھی ۔۔۔ اور یہ بات ولید بھی جانتا تھا ۔۔۔۔ اپنی طرف اٹھنے والی زجاجہ کی ہر نظر میں ولید کو ریسپیکٹ اور محبت محسوس ہوتی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن وہ اپنے مزاج سے مجبور تھا ۔۔۔۔ویسے بھی وہ زجاجہ کے لئے ایسے کوئی جذبات نہیں رکھتا تھا جن کی بنیاد پر وہ اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ کا یقین دلاتا ۔۔ آج صبح سے ہی موسم ابر آلود تھا ۔۔۔۔۔ ایسا لگتا تھا آج آسمان کھل کے برسے گا ۔۔۔۔وہ سکول سے یونی پہنچی تو بوندا باندی شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔ سر سہیل کی کلاس لے کے نکلی ہی تھی کہ حیدر کا میسج آیا "ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی طرف آؤ "۔۔۔۔۔ اس نے بیا اور ثنا کو بتایا اور تینوں انگلش ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل پڑیں ۔۔۔۔۔۔ وہاں پہنچ کر پتا چلا کہ دونوں ڈیپارٹمنٹ کے سٹوڈنٹس مل کر موسم celebrate کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ دونوں ڈیپارٹمنٹ آمنے سامنے تھے ۔۔۔۔۔ دوسری طرف اگلی نشستوں پر پروفیسر جمشید کے ساتھ ولید حسن بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔ نیوی بلو شرٹ اور آف وائٹ پینٹ پہنے پروفیسر طارق کی کسی بات پر ہلکے سے مسکراتے ہوئے وہ اس خوبصورت موسم کا حصہ ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ زجاجہ نے نظر بھر کر ولید کو دیکھا اور "ماشاءاللہ " کہا جو پاس بیٹھی بیا نے بھی سنا مگر کچھ نہ بولی ۔۔۔۔۔ انگلش ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے فرسٹ سمسٹر کا حسان گانا سنانے کے لئے میدان میں اترا تو سب نے خوب ہوٹنگ کی ۔۔۔۔ حسان نے آنکھیں بند کر کے پورے جذب کے ساتھ گانا شروع کیا "رات یوں دل میں تیری بھولی ہوئی یاد آئ جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے جیسے صحرا میں ہولے سے چلے باد نسیم جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے " اس نے سانس لینے کا وقفہ کیا تو ایک بار پھر شور مچ گیا ۔۔۔۔ " آپ بیٹھے ہیں بالن پہ میری موت کا زور چلتا نہیں ھے " زجاجہ نے دیکھا ولید حسن پورا اس گانے میں کھویا ہوا ھے ۔۔۔۔۔ ارد گرد سے بے نیاز وہ کسی اور دنیا میں تھا ۔ زجاجہ کو اسے دیکھنا اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ "کیا سنبھالو گے تم میرے دل کو جب یہ آنچل سنبھلتا نہیں ہے " حسان کی آواز نے سننے والوں پر سحر طاری کر دیا تھا ۔۔۔۔ زجاجہ کو لگ رہا تھا کہ ایک ایک لفظ اس کے جذبات کی ترجمانی کر رہا ھے "میرے نالوں کی سن کر زبانیں ہو گئیں موم کتنی چٹانیں " زجاجہ نے ولید حسن کی طرف دیکھا "میں نے پگھلا دیا پتھروں کو اک تیرا دل پگھلتا نہیں ھے " زجاجہ کی آنکھیں بھر آئیں ۔۔۔۔۔ عین اسی وقت ولید کی نظر زجاجہ پر پڑی تو وہ اسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ زجاجہ نے آنکھیں جھکا لیں لیکن وہ اس کی آنکھوں کی نمی دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔

   0
0 Comments