Orhan

Add To collaction

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر8

اسلام آباد کی صبح حسب معمول بہت خوبصورت تھی ۔۔۔۔۔ زجاجہ ابھی تک بستر میں دبکی پڑی تھی ۔۔۔۔ ماریہ اٹھ کر باہر جا چکی تھی ۔۔۔ زجاجہ اٹھنے کا سوچ رہی تھی کہ ماریہ نے دھواں دار انٹری دی "زجی ۔۔۔یہ دیکھ " وہ ایک ہی جست میں بیڈ پر چڑھی۔ "کیا هو گیا ہے ۔۔۔۔۔ ہر وقت بندریا بنی رہتی ہو" زجاجہ نے اسے پرے دھکیلتے ہوئے کہا "کبھی تو خود کو انسان ثابت کیا کرو" "او یار چھوڑ ۔۔۔۔ ادھر دیکھو ۔۔۔ خوبصورت صبح کا شاندار منظر ۔۔۔۔ میں ایک کلک میں قید کر لائی " وہ سورج طلوع ہونے کے منظر کی تصاویر دکھاتے ہوئے خوش ہو رہی تھی ۔ واؤ ۔۔۔۔۔ اٹس امیزنگ نا " زجاجہ موبائل سکرین پر انگلیاں گھماتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔ ایک تصویر پر اس کی نظر اور ہاتھ رک گیا ۔۔۔۔۔۔اس تصویر میں ولید حسن گرے کلر کا ٹریک سوٹ پہنے ریسٹ ہاؤس کے لان میں ورزش کرتا دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔ "اس شہر بےمثال کی صبح کتنی خوبصورت ہوتی ہے نا " ماریہ پاؤں کو شوز سے آزاد کرتے ہوئے بولی ۔ "ہاں ۔۔۔۔۔ یہ صبح واقعی بہت خوبصورت ہے " زجاجہ اس تصویر کو دیکھتے ہوئے ٹرانس کی کیفیت میں بولی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب نیچے ہال میں ناشتے کی میز پر اکٹھے آج کا دن پلان کر رہے تھے ۔۔۔۔ آخر راول جھیل دیکھنے کا فیصلہ ہوا۔۔۔۔۔ شام کو دامن کوہ جانا بھی آج کے پلان کا حصہ تھا ۔۔۔ "اوکے لیڈیز ۔۔۔۔۔دیر نہیں ہونی چاہیے پلیز " ولید ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا اور اٹھ گیا ۔ سب تیاری میں مصروف ہو گئے ۔۔۔۔ سر آصف اور سر وقاص بھی پہنچ گئے ۔۔۔۔۔وہ کسی وجہ سے سٹاف کے ساتھ نہیں آ سکے تھے ۔۔۔۔ "دیٹس گریٹ مائی بوائز " ولید حسن ان سے ہاتھ ملاتے ہوئے خوش دلی سے بولا ۔۔۔۔۔ زجاجہ تیار ہو کر شیشے کے سامنے کھڑی خود کو تنقیدی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔اس نے ریڈ کلر کے کرتے کے ساتھ بلو جینز پہن رکھی تھی ۔۔۔۔ لمبے خوبصورت لیئر شیپ میں کٹے شہد رنگ بال پونی ٹیل میں قید تھے۔۔۔۔ کانوں میں سرخ رنگ کے چھوٹے چھوٹے نفیس سے ایئر رنگز اس کو مزید دلکش بنا رہے تھے ۔۔۔۔ وہ جیکٹ پہن رہی تھی کہ اس کا موبائل گنگنا اٹھا ۔۔۔۔ بابا کی کال تھی ۔۔۔۔ وہ موبائل لے کر باہر آ گئی ۔۔ "السلام علیکم بابا جانی " وہ بابا کی آواز سن کر فریش ہو گئی تھی ۔۔۔ " جی میں بلکل ٹھیک ۔۔۔۔۔ ماما کیسی ہیں ۔۔۔۔ جی بابا ابھی بس نکل رہے ہیں ہم لوگ ۔۔۔۔۔ بہت خیال رکھوں گی۔۔۔۔۔ آپ بھی اپنا خیال رکھیئے گا ۔۔۔۔اللہ حافظ بابا " وہ فون بند کر کے مڑی ہی تھی کہ اسے ولید حسن اپنی طرف دیکھتا نظر آیا ۔۔۔۔۔ وہ وہیں رک گئی ۔۔۔۔ ولید حسن اس کے پاس آ گیا ۔ "لکنگ ۔۔۔ ہمممم " وہ اسے سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے بولا ۔ " یہ کون سی لکس ہوتی ہیں ؟؟؟؟ اب کیا سمجھوں کیسی لگ رہی ہوں " وہ مسکراتے ہوۓ بولی ۔ "اسے کہتے ہیں spell bound...... جب الفاظ نہیں رہتے تو میں ہممم سے کام چلاتا ہوں " "ہا ہا ہا" وہ کھلکھلا کر ہنس دی ۔۔۔۔۔ "آپ کے پاس واقعی ہر مسئلے کا حل ہے " اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا مس عفت اور مس تہمینہ آتی دکھائی دیں ۔۔۔۔ ولید کو خاموش ہونا پڑا ۔ "چلیں سر ۔۔۔۔۔ " مس عفت نے ولید سے کہا "جی ۔۔۔۔سب کو آ لینے دیں ۔۔۔۔نکلتے ہیں پھر "ولید کہتا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا راول جھیل کا منظر ہمیشہ کی طرح روح کو ترو تازہ کرنے والا تھا ۔۔۔۔ دن کا وقت ہونے کی وجہ سے رش زیادہ نہیں تھا ۔۔۔۔ ولید آصف اور وقاص کو ساتھ لے کر ایک طرف نکل گیا تھا ۔۔۔۔ اب وہ سب اپنے انداز میں انجوائے کرنے کے لئے آزاد تھیں ۔۔۔۔ زجاجہ ساتھ ساتھ بیا کو بھی تصاویر بھیج رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کا بیا اور ثنا کے بغیر آنے کا پہلا چانس تھا ۔۔۔۔۔ جھیل کا پانی اپنی موج دکھا رہا تھا ۔۔۔۔ لوگ بوٹنگ کر رہے تھے ۔۔۔۔۔ وہ سب بھی ایک کشتی میں گھس گئیں ۔۔۔۔ "بھائی ذرا آرام سی چلانا " مس آسیہ نے ملاح کو نصیحت کرنا ضروری سمجھا کیونکہ وہ سب کے کہنے پر بیٹھ تو گئیں تھیں مگر ڈر رہی تھیں ۔۔۔ اور جب تک کشتی نے ان کو واپس کنارے پر نہ اتار دیا ،مس آسیہ ورد ھی کرتی رہیں ۔ "آپ سب کا لنچ کا کیا پلان ہے " سر آصف نے اں کے قریب آتے ہوئے پوچھا "لنچ ریسٹ ہاؤس جا کر کریں گے " مس عطیہ فورا بولیں ۔ "واپس جا کر کیوں " زجاجہ نے حیران ہو کر کہا ۔ "بس یار ۔۔۔۔ دل کر رہا ہے واپس جانے کا " انہوں نے تھکاوٹ سے کہا تو سب نے واپسی کے لئے قدم بڑھا دئے ۔ "جھیل پر پریاں تھیں کیا " کھانا کھاتے ہوئے وقاص نے پوچھا ۔۔۔۔ وہ ایک شوخ مزاج لڑکا تھا ۔۔۔اس کے عتاب سے کم ھی کوئی بچ پاتا ۔۔۔ "وہ پہاڑوں پر اترتی ہیں سر " آصف نے تصحیح کی ۔۔۔۔ "اتنی ڈھیر ساری پریاں آپ کو نظر آ رہیں وقاص سر " مس نورین نے سب ٹیچرز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وقاص کو مخاطب کیا ۔۔۔۔ "یا اللہ رحم ۔۔۔۔۔۔ "وہ اس انداز میں بولا کہ سب کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی ۔۔ "مغرب کے بعد دامن کوہ کے لئے نکلیں گے " ولید نے کھانے کی ٹیبل سے اٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ وہ سب بھی کھانے کے بعد کمروں میں آ گئیں ۔۔۔۔۔ "سر نے اپنے ریسٹ ہاؤس میں کیوں نہیں ٹھہرایا ہمیں " مس فوزیہ نے عفت سے پوچھا "ولید صاحب کا ریسٹ ہاؤس بھی ہے کیا " زجاجہ نے حیرت کا اظہار کیا ۔ "ایک ریسٹ ہاؤس " عفت نے بھنویں اچکائیں "سر کی ریسٹورینٹس کی چین ہے وہ بھی UK میں ۔۔۔۔ سکول تو میم کا شوق ہے " زجاجہ کی حیرت کی انتہا نہ رہی ۔۔۔۔۔۔

   0
0 Comments