Orhan

Add To collaction

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر10

زندگی ایک بار پھر معمول پر آ چکی تھی ۔۔۔۔ یونی میں سیمسٹر شروع ہو گیا تھا اور سکول بھی دسمبر بریک کے بعد کھل چکا تھا ۔۔۔۔ زجاجہ کی بھی وہی پرانی روٹین سٹارٹ ہو گئی تھی ۔۔۔ "میرے ساتھ چلنا " ولید کے میسج نے اسے بیک وقت حیران اور پریشان دونوں کر دیا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ کبھی بغیر مجبوری کے اس کے ساتھ نہیں گئی تھی اور یہ بات تو گمان بھی کرنا مشکل تھا کہ وہ اسے خود کہے گا ۔۔۔۔ چھٹی کے وقت اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے مسز یزدانی کی نظر ولید پر پڑی تو وہ کچھ سوچتے ہوئے اس کی طرف بڑھ گئیں ۔۔ "آپ گئے نہیں ولید بیٹا " انہوں نے پوچھا ۔۔۔۔ وہ عموما چھٹی سے پہلے چلا جاتا تھا ۔۔۔۔ "جی مما ۔۔۔نکل رہا ہوں بس ۔۔ مس زجاجہ کو پک کرنا ہے " "اچھا ۔۔۔۔ شام میں جلدی آنا ۔۔آپا آ رہی ہیں " وہ کہتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گئیں ۔۔۔۔ولید نے سر ہلانے پر اکتفا کیا ۔۔کیونکہ نقاش اسے اپنے اور پھپھو کے آنے کی اطلاع دے چکا تھا ۔۔۔ زجاجہ کے بیٹھتے ہی ولید نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔۔ "جی زجاجہ ولید حسن ۔۔کیسی ہیں آپ " یہ شوخ ہوا ۔۔۔ زجاجہ کا منہ حیرانگی سے کھلا رہ گیا ۔۔۔ "کیا ہوا " ولید نے اپنا ہاتھ اس کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے کہا "آپ نے مجھے اس نام سے " اس نے دانستہ بات ادھوری چھوڑ دی ۔۔ "ہاں تو ۔۔۔ کوئی اعتراض یا شک " ولید براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔ "آپ سچ کہہ رہے ہیں نا ولی " وہ بے یقینی سے ولید کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ "جی میری جھلو ۔۔۔ بلکل سچ کہہ رہا ہوں " ولید نے اس کی ناک دبائی ۔۔۔۔ تو وہ مسکرا دی ۔۔۔ زجاجہ کے دل میں ڈھیروں سکون اتر آیا ۔۔۔۔ "اچھا ساتھ آنے کو کیوں بولا تھا " یاد آنے پر وہ فورا بولی "ہاں بتانا ہے تمہیں کچھ " ولید نے ایک نظر اس پر ڈالی ۔۔۔ "تم جانتی ہو نا میرا UK میں بزنس ہے ۔۔۔ وہ بھی دیکھنا پڑتا ہے مجھے ۔۔۔۔" "جی ۔۔۔پتا ہے مجھے ۔۔۔اصل بات کریں نا ولید " وہ لجاجت سے بولی "مجھے ٹینشن ہو رہی ہے" ۔ "میں کچھ دنوں کے لئے UK جا رہا ہوں " ولید نے اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا ۔۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ زجاجہ اداس ہو جائے گی ۔۔۔۔ ولید کو دیکھے بغیر اس کی صبح نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔ لیکن جانا بھی ضروری تھا ۔۔۔۔اور بتانا بھی ضروری ۔۔۔ "کتنے دنوں کے لیے " کچھ دیر بعد اس کی آواز آئی ۔۔۔۔ ولید کو لگا وہ بہت دور سے بول رہی ہے ۔۔۔ "مے بی 15 ڈیز ۔۔۔۔ یا زیادہ بھی لگ سکتے ہیں " اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔۔ولید نے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔ گرین کرتے کے ساتھ وائٹ ٹراؤزر پہنے ۔۔۔سر پر گرین دوپٹہ لئے ۔۔۔وہ ولید کو چھوٹی سی بچی لگی ۔۔۔۔ "کچھ بولو نا زجی " ولید نے اسے متوجہ کیا ۔۔۔ "میں کیسے رہوں گی ولی " زجاجہ کی خوبصورت آنکھیں آنسووں سے بھری ہوئی تھیں ۔۔۔۔ ولید کو لگا وہ کبھی نہیں جا پائے گا ۔۔۔۔ "اوہو زجاجہ ۔۔۔ تھوڑے دن کی تو بات ہے یار ۔۔۔ دیکھنا کیسے گزر جائیں گے۔۔تم کہو گی ابھی کل ہی تو آپ گئے تھے اور آ بھی گئے " ولید نے ماحول کی اداسی کو کم کرنا چاہا ۔۔۔۔ "میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔۔میں نہیں رہ پاؤں گی " وہ ابھی بھی رو رہی تھی ۔۔ "پلیز زجی ۔۔۔۔ ایسے نہیں کرو ۔۔۔یو کین انڈرسٹینڈ میرا جانا ضروری ہے ۔۔۔۔ اور پھر واپس آ کے مما سے بات کروں گا " ولید نے مسکراتے ہوئے کہا "کیا بات " وہ کچھ نہ سمجھی ۔ "یہی کہ آپ کے سکول کی ایک ٹیچر کو گھر لے چلتے ہیں " زجاجہ کے چہرے کا رنگ بدلا ۔۔۔ وہ انگلیاں مروڑنے لگی ۔۔۔ "اوہ کم آن ۔۔۔ تم شرماتی ہو تو مجھے لگتا ہے میں کسی اور سے بات کر رہا ہوں " وہ شرارت سے بولا ۔۔۔ زجاجہ نے جواب میں اسے گھورا تو اس کا قہقہہ گاڑی میں گونج گیا ۔۔۔۔ "یونی زیادہ دور نہیں ہو گئی آج " زجاجہ نے باہر دیکھتے ہوئے کہا "جی میم ۔۔۔ کیونکہ ہم یونی سے آگے نکل آئے ہیں " "اففف ۔۔۔۔ پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔ واپس چلیں پلیز ۔۔۔۔ ڈاکٹر شاہد کی کلاس ہے " وہ پریشان ہو گئی ۔ "چل رہے ہیں چندا ۔۔۔ ریلیکس " وہ نرمی سے بولا "آپ کی فلائٹ کب ہے " زجاجہ نے اسی بات کی طرف آتے ہوئے پوچھا "شکر ہے یاد آ گئی محترمہ کو ۔۔۔۔ کل شام کی ہے " ولید سامنے سڑک پر دیکھتے ہوئے بولا "اتنی جلدی " وہ پھر روہانسی ہوئی ۔۔۔ "میرا جانا ایسا ہی ہوتا ہے زجاجہ ۔۔۔۔ اچانک اور بغیر شیڈول کے " ولید نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا " تم نے بہت خیال رکھنا ہے اپنا ۔۔۔ میں جلد سے جلد واپس آؤں گا ۔۔۔ انشا اللہ " "مجھے ڈر لگتا ہے ولی " وہ سامنے دیکھتے ہوۓ بولی "کس سے " ولید حیران ہوا "گوریوں سے " زجاجہ نے بےساختہ جواب دیا ۔۔۔ ولید نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے گاڑی سائیڈ پر روک دی ۔۔۔ "او مائی گاڈ۔۔۔۔ تم اتنی سٹوپڈ ہو ۔۔۔ مجھے آئیڈیا نہیں تھا " "اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے " وہ شرمندہ ہوئی ۔۔ "تم نے بات ہی ایسی کی ہے " ولی کی بھوری آنکھیں بےتحاشہ ہنسنے کی وجہ سے چمک رہی تھیں ۔۔۔۔۔ زجاجہ دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔ "نظر لگاؤ گی کیا " ولید نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تو وہ مسکرا دی ۔۔۔۔ "گاڑی چلائیں " زجاجہ نے اس کی توجہ ہٹانے کیلئے کہا ۔۔۔ ولید نے گاڑی سٹارٹ کر دی ۔۔۔یونی پہنچ کر اسے اردو ڈیپارٹمنٹ کے سامنے اتارتے ہوئے ولید نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔ زجاجہ چونک گئی ۔۔۔۔ولید اس طرح کبھی اس کو نہیں چھوتا تھا ۔۔۔ "ڈرنا مت زجاجہ ۔۔۔۔ ولید حسن کے قدم اس وقت نہیں بہکے جب وہ اکیلا تھا ۔۔۔ اب تو تم ساتھ ہو ۔۔۔ اب تو ایسا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔ " ولید کی گمبھیر آواز گاڑی میں گونج رہی تھی ۔۔۔ "تب مما کی تربیت کا سوال تھا اور اب تمہاری محبت کا ۔۔۔۔ میں دونوں کے سامنے سرخرو ہونا چاہتا ہوں" زجاجہ کی آنکھ پھر بھر آئی تھی ۔۔۔۔ وہ تیزی سے اتر کر ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھ گئی ۔۔۔۔ ولید کچھ دیر کھڑا اس کے لمس کو محسوس کرتا رہا ۔۔۔۔ پہلی بار اس نے زجاجہ کو چھویا تھا ۔۔۔۔ وہ کبھی شرارت میں ولید کے بال بکھیر دیتی تو کبھی ہاتھ ایک دم سی پکڑ کے چھوڑ دیتی ۔۔۔۔ ولید اسے گھورتا تو کھلکھلا کے ہنستی ہی چلی جاتی ۔۔۔ "مت ٹچ ہوا کرو جھلی ۔۔۔۔ گناہ ہوتا ہے " ولید سمجھاتا تو وہ ایک ادائے بےنیازی سی کہتی "میری محبت گناہ ثواب کی مصلحت سے بہت آگے کی ہے " ۔۔۔۔ ولید چپ کر جاتا ۔۔۔۔ وہ تھوڑی دیر کھڑا رہا ۔۔۔پھر گہرا سانس لے کر گاڑی پارکنگ کی طرف بڑھا دی

   0
0 Comments