جس تن نوں لگدی او تن جانڈے
جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر14
ولید کیا کہہ رہے ہیں آپ " اسے یقین نہیں آیا ۔۔۔۔ "ٹھیک کہہ رہا ہوں زجاجہ ۔۔۔۔ تمہارے بابا کا سب سے پہلا حق ہے تم پر ۔۔۔۔ وہ میں یا کوئی اور نہیں لے سکتے ۔۔۔۔ یو نو زجاجہ میرا دل کرتا ہے پاپا زندہ ہوتے اور مجھے کہتے نا کہ ولید اگلا سانس نہیں آنا چاہئے تمہیں تو میں ایک لمحہ نہ لگاتا ان کی بات ماننے میں۔۔۔۔ یہ بھی نہ سوچتا کہ خود کشی حرام ہے " وہ جذباتی ہو گیا ۔۔ "پلیز ولید ۔۔۔۔ سب باتیں اپنی جگہ درست ہوں گی لیکن میں ایسا نہیں کر سکتی " وہ رو پڑی ۔۔۔۔ اور یہی وہ مقام تھا جہاں ولید حسن ہار جاتا تھا "اچھا ۔۔۔۔ ڈونٹ ٹیک ٹینشن ۔۔۔۔ کل بات کریں گے ۔۔۔سو جاؤ اب ۔۔۔۔ الله حافظ " اس نے فون بند کر دیا ۔۔۔۔ زجاجہ موبائل کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔ اگلے دن سکول میں اس کی ولید سے بات نہ ہو سکی ۔۔۔۔ یونی پہنچ کر وہ انگلش ڈیپارٹمنٹ کی طرف چلی گئی ۔۔۔۔ ولید کلاس کی۔طرف جا رہا تھا ۔۔۔۔ زجاجہ کو آتے دیکھ کر رک گیا ۔۔۔۔ "میں نے کچھ بات کرنی ہے آپ سے " وہ قریب آ کر بولی ۔۔۔۔ ولید اسے لے کر جمشید ماموں کے آفس آ گیا ۔۔۔۔ وہ جا چکے تھے ۔۔۔۔ "بتاؤ ۔۔۔۔کیا بات ہے " ولید نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ اسے زجاجہ بکھری بکھری لگی ۔۔۔۔ وہ نظر چرا گیا ۔۔۔ "آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں " وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ "میں کچھ غلط نہیں کر رہا ۔۔۔۔ محبت کو سائیڈ پہ رکھ کے سوچو ۔۔۔۔ تم مان ہو اپنے بابا کا ۔۔۔۔ ان کا حق ہے تم پر ۔۔۔ ان کو یقین ہے کہ تم ان کی بات مانو گی ۔۔۔۔ اور یہی مان مجھے بھی تم پر ہے کہ تم میری بات بھی نہیں ٹال سکتی " وہ بات کرتے کرتے رکا ۔۔۔ زجاجہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ " اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ تم یہ بھرم نہیں توڑو گی " "صحیح ۔۔۔۔ اور میرا مان میرا غرور ۔۔۔۔ اس کا کیا ہوا ولید ۔۔۔۔ " وہ روہانسی ہو گئی ۔۔۔ "جو کسی کو نہیں جھکنے دیتے نا زجاجہ ۔۔۔۔ الله پاک انہیں کبھی گرنے نہیں دیتا ۔۔۔۔ لوگ اگر ان کو نیچے لانے کے لئے ان کے پاؤں کھینچتے بھی ہیں نا تو الله کی ذات ان کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے " وہ اسے نرمی سے سمجھا رہا تھا "مجھے غلط مت سمجھنا پلیز ۔۔۔۔" وہ چپ چاپ اٹھ کے باہر آ گئی ۔۔۔۔ ولید نے روکنا چاہا مگر اس نے مڑ کر نہیں دیکھا ۔۔۔۔ رات کو بابا کو اس نے بتا دیا کہ وہ ابھی شادی یا منگنی نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔۔ وہ ساری توجہ اپنی پڑھائی کو دینا چاہتی ہے ۔۔۔۔ بابا اس کی بات سمجھ گئے ۔۔۔اور شیراز صاحب سے معذرت کر لی ۔۔۔۔ بہت دنوں بعد زجاجہ سکون سے سوئی ۔۔۔۔ زندگی پھر اسی ڈگر پر چل پڑی تھی ۔۔۔۔ لیکن وہ ولید سے اب بھی ناراض تھی ۔۔۔ نہ سکول میں اس سے بات کرتی نہ یونیورسٹی میں ۔۔۔۔ ولید کے لئے یہ سچیویشن بہت پریشان کن تھی ۔۔۔۔ اس کا مقصد غلط نہیں تھا لیکن بہت کچھ غلط ہو گیا تھا ۔۔۔۔ انہی دنوں میں مسز یزدانی اور جمشید صاحب عمرہ کرنے چلے گئے ۔۔۔۔ ولید کا کام مزید کچھ دن لیٹ ہو گیا ۔۔۔ ۔ وہ مما کو زجاجہ کے گھر بھیجنا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن پتا نہیں قدرت کو کیا منظور تھا۔۔۔۔۔ ہر بار کچھ ایسا ہو جاتا جس کی وجہ سے ولید کا ارادہ ارادہ ہی رہ جاتا ۔۔۔۔ آج ولید کا سامنا صبح صبح ہی زجاجہ سے ہو گیا ۔۔۔۔ لیکن وہ اسے نظر انداز کر کے گزر گئی ۔۔۔۔ ولید کو یہ بات حیرت زدہ کرنے کے لئے کافی تھی "یہ اتنی بدگمان ہے میرے سے " وہ واقعی پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔ "مس آپ کو ولید صاحب بلا رہے ہیں " زجاجہ کلاس میں تھی جب اسے پیون نے اطلاع دی ۔۔۔۔ دل تو چاہا کہہ دے "نہیں آ رہی میں " ۔۔۔ مگر یہ بھی ممکن نہیں تھا ۔۔۔ "آپ نے بلایا سر " وہ اس کے سامنے کھڑی ہو گئی "ہممم ۔۔۔۔۔ بیٹھو ۔۔۔۔۔ تمہارا دماغ درست کرنا ہے " ولید نے پین بند کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔ "تم کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا ۔۔۔۔ وجہ جان سکتا ہوں میں " ولید اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا "میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی اس بارے میں پلیز " وہ نیچے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ ولید : "زجاجہ " زجاجہ : "جی " ولید : " کتنا یقین ہے تمہیں مجھ پہ " زجاجہ : " یہ آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا " ولید : " تو کیا تمہارا یقین تمہیں اجازت دیتا ہے کہ تم اپنے معاملے میں میری نیت پہ شک کرو " زجاجہ : " میں نے کوئی شک نہیں کیا ولی ۔۔۔۔ سوچ بھی نہیں سکتی ایسا۔۔۔۔۔ بس میں ہرٹ ہوں " ولید : "تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ اس رات میں ضبط کی کس انتہا سے گزرا تھا جب تمہیں بابا کی بات ماننے کو کہا تھا میں نے " زجاجہ : " کیوں کہا تھا ؟؟؟ آپ جانتے ہیں نا میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔ پھر کہاں گنجائش بچتی تھی اس مشورے کی " ولید : " اچھا سوری نا ۔۔۔۔موڈ ٹھیک کرو ۔۔۔۔ مما واپس آئیں پھر بھیجتا ہوں تمہارے گھر " زجاجہ : "خود مت آئیے گا ساتھ ۔۔۔۔ نہیں تو میں انکار کر دوں گی " وہ کہہ کے رکی نہیں ۔۔۔۔ ولید کا قہقہہ کمرے میں گونج گیا ۔۔۔۔ وہ بند دروازے کو دیکھ کر مسکراتا رہا ۔۔۔ اور زیر لب بولا "میری جھلی "۔۔۔۔ ولید نے اپنے لئے چائے بنائی اور کپ اٹھا کر لاؤنج میں آ گیا ۔۔۔۔ٹی وی آن کر کے سپورٹس چینل کے لئے سرفنگ کرتے ہوئے اس کا ہاتھ ایک بٹن پر رک گیا ۔۔۔۔ وہاں ایک مولانا صاحب محبت پر بات کر رہے تھے ۔۔۔ ۔ "حیران ہوتا ہوں ان لوگوں پر جو ایک انسان سے محبت کا دعوی بھی کرتے ہیں ۔۔۔۔ اور اسے جہنم کی طرف بھی دھکیل رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ جس سے محبت ہوتی ہے اس کو تو گرم ہوا بھی چھو جائے تو محب تڑپ اٹھتا ہے کجا کہ جہنم کی آگ ۔۔۔۔ " بات دل کو لگ رہی تھی ۔۔۔۔ وہ سننا شروع ہو گیا ۔۔۔ "مولانا صاحب کیا محبت حرام ہے ؟؟" حاضرین کی طرف سے سوال آیا "محبت خدا کی صفت ہے ۔۔۔۔ وصف ہے اس پاک ذات کا ۔۔۔کیسے حرام ہو سکتی ہے ۔۔۔ ہاں طریقے اسے حرام حلال بنا دیتے ہیں ۔۔۔۔ ہمارا مذہب ہمیں پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے تو پسند کیا ہے ؟؟؟ محبت ہی تو ہے ۔۔۔ لیکن آج کل جن لمبی لمبی فون کالز اور میل ملاپ کو محبت کہا جاتا ہے وہ اور کچھ ہو سکتا ہے مگر محبت نہیں "وہ بہت ٹھہرے ہوۓ لہجے میں بہت پر اثر انداز میں بات کر رہے تھے ۔۔۔ "یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ ایک انسان سے محبت کریں اور خود ہی اسے آگ میں ڈال کر جلا دیں " ولید کو لگا یہ سب باتیں اس کے بارے میں کی جا رہی ہیں ۔۔۔ اس کا دل بے چین ہو گیا ۔۔۔۔ "کیا میں بھی زجاجہ کے ساتھ یہی کر رہا ہوں " ۔۔۔۔ ایک سوال سامنے آ کھڑا ہوا ۔۔۔۔ "میں جو اسے اکیلے میں لے جاتا ہوں ساتھ ۔۔۔۔ فون کالز کرتا ہوں تو کیا یہ سب اسے جہنم ۔۔۔۔۔۔۔ " اس سے آگے وہ سوچ ہی نہیں سکا ۔۔۔ "یا الله ۔۔۔ میں کیا کر رہا تھا ۔۔۔۔ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی زجی کو آگ میں جلانے چلا تھا ۔۔۔۔ کیسی محبت تھی میری " بہت کچھ ذہن کے سٹیج پر آتا چلا گیا کیونکہ پردہ ہٹ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اٹھ کر کمرے میں آ گیا ۔۔۔ پوری رات یہی سوچتے گزر گئی ۔۔۔ اور صبح تک فیصلہ ہو گیا ۔۔۔۔۔ اس نے زجاجہ سے دور ہونا شروع کر دیا ۔۔۔۔ نیت اب بھی قائم تھی ۔۔۔۔ لیکن عمل بدل گیا تھا ۔۔۔۔ وہ اس کے میسجز کا بھی کم ہی جواب دیتا ۔۔۔۔ کال بھی بہت کم سننے لگا تھا ۔۔۔ زجاجہ کچھ دن تو برداشت کرتی رہی ۔۔۔۔ آخر ایک دن اس نے بول ہی دیا "ولی آپ بہت بدل گئے ہیں " "نہیں ۔۔۔۔ حالات کچھ بدلے ہیں ۔۔۔۔ مصروفیت بڑھ گئی ہے ۔۔۔یو نو مما نہیں ہیں ادھر ۔۔۔۔سب مجھے دیکھنا پڑتا ہے ۔" ولید نے بات بنائی ۔۔ اسے معلوم تھا کہ اگر وہ سیدھا یہ کہے گا کہ وہ غلط کر رہے ہیں تو زجاجہ کی سمجھ میں بات نہیں آئے گی ۔۔۔ "لیکن میں بھی تو ایک حقیقت ہوں نا آپ کی زندگی کی ۔۔۔۔ مجھے بھی وقت چاہئے آپ کا " اس نے یاد دلایا "دیتا ہوں نا تمہیں بھی ٹائم ۔۔۔ جب بھی جتنا بھی ملتا ہے ۔۔۔۔ اچھا سنو ۔۔۔ پھر بات کرتے ہیں ۔۔۔ نقاش آیا ہے ۔۔۔ اپنا خیال رکھنا " کال کٹ گئی ۔۔۔۔ مگر زجاجہ بے چین ہو گئی ۔۔۔ ۔ وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ ولید کا رویہ کیوں بدل گیا ہے ۔۔۔۔ "یا الله مجھے کسی آزمائش میں مت ڈالنا ۔۔۔ میں اس قابل نہیں میرے مالک " اس نے دل سے دعا کی "نقاش میں نے بہت ٹوٹ کر چاہا ہے اس کو ۔۔۔ میں واقعی گرم ہوا نہیں برداشت کر سکتا اس کے لئے ۔۔۔ یہ رویہ میری مجبوری ہے ۔۔۔۔ میں خود بھی ٹوٹ رہا ہوں اندر سے۔۔۔ میں چاہتا ہوں میری نظر بھی نہ پڑے کسی پر ۔۔۔ دماغ کی دنیا ہی بدل گئی یار ۔۔۔۔ زجی کی تکلیف کا اندازہ ہے مجھے ۔۔۔ اس کی ہر وہ کال جو میں ریجیکٹ کر دیتا ہوں ۔۔۔ہر وہ میسج جو میں اگنور کر دیتا ہوں ۔۔۔۔ مجھے پوری پوری رات سونے نہیں دیتا ۔۔۔۔ " ولید کہتے کہتے رو پڑا ۔۔۔ "ولید پلیز ۔۔۔۔ تم نے اچھا فیصلہ کیا ۔۔۔۔ بہت ہمت بلکہ ہدایت چاہئے اس عمر میں ایسے فیصلے کے لئے ۔۔۔ ۔ مجھے رشک آ رہا ہے تجھ پہ ۔۔۔۔ آئی ایم پراؤڈ آف یو جگر " نقاش نے اس کو گلے لگا لیا ۔۔۔۔