Orhan

Add To collaction

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر16

سکول میں آج کل مس عفت کی شادی کا ذکر چل رہا تھا ۔۔۔۔ سب بہت ایکسائیٹڈ تھیں ۔۔۔۔ مس عفت آج چھٹی پہ جا رہی تھیں ۔۔۔ اور وہ سب کو بار بار آنے کی تاکید کر رہی تھیں ۔۔۔۔ "اگر تم لوگ نہ آئیں نا تو میں سب سے کبھی بات نہیں کروں گی ۔۔۔۔ دیکھ لینا " انہوں نے دھمکی دی "ضرور آئیں گے ۔۔۔۔ آپ دیکھنا بس کہ ہم کیسے آتے ہیں ۔۔۔۔ " ماریہ نے ان کو یقین دلایا ۔۔۔۔ "زجاجہ تم بھی ضرور آنا ۔۔۔ ورنہ بائیکاٹ کر دوں گی میں تمہارا ۔۔۔" انہوں نے زجاجہ کا کان کھینچا ۔۔۔ "افففف ۔۔۔۔۔ ظالم عورت ۔۔۔۔ کان اتار لیں گی تو کیسے آؤں گی ۔۔۔کن کٹی ہو کے " اس نے اپنا کان سہلایا "ہاں ۔۔۔کن کٹی ہو گئی تو آپ کی شادی سے بھی جائے گی اور اپنی سے بھی ۔۔۔ہی ہی ہی " در نجف نے خود ہی اپنی بات کا مزہ لیا۔۔۔۔ باقی سب بھی ہنس پڑیں ۔۔۔۔ عین اسی وقت باہر سے ولید گزرا ۔۔۔۔ اس کے کانوں میں بھی در نجف کے الفاظ پڑے ۔۔۔۔ وہ بے اختیار مسکرایا ۔۔۔۔ "اوکے یار ۔۔۔۔ نکلتے ہیں اب ۔۔۔ سب اپنا خیال رکھنا ۔۔۔ اور ایک بار پھر کہہ رہی ہوں ضرور آنا ۔۔۔ " مس عفت سب کو مل رہی تھیں ۔۔۔۔ پتا نہیں کیوں زجاجہ کا دل بھر آیا ۔۔۔ سچ کہتے ہیں اپنا دل دکھا ہو تو ہر کسی کی تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ باقی سب بھی اداس ہو گئیں ۔۔۔ یہ بے غرض رشتے بھی بہت عجیب ہوتے ہیں ۔۔۔۔ جتنا سکون دیتے ہیں ۔۔۔۔ اتنی ہی تکلیف بھی ۔۔۔۔ رشتہ تو نام ہی احساس کا ہے ۔۔۔۔ احساس نہ ہو بندہ اور خدا بھی ایک دوسرے کے لئے اجنبی اور احساس ہو تو دو اجنبی بھی یک جان ہو جاتے ہیں ۔۔۔ وہ یونیورسٹی جانے کے لئے وین کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔ آج ماریہ در نجف کے ساتھ بازار چلی گئی تھی ۔۔۔۔ ورنہ وہ اور زجاجہ ایک ہی وین میں جاتی تھیں ۔۔۔۔ کافی دیر ہو گئی تھی اس کو کھڑے ہوئے ۔۔۔۔ "کیا ہو گیا آج ۔۔۔۔ وین آ کے ہی نہیں دے رہی ۔۔۔"اس نے چڑ کر سوچا ۔۔۔۔ اسی وقت ولید ادھر سے گزرا ۔۔۔۔ زجاجہ نے بھی اسے دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔ ولید نے گاڑی کی رفتار ذرا سی کم کی ۔۔۔۔ اور پھر کچھ سوچ کر بغیر رکے آگے بڑھ گیا ۔۔۔ زجاجہ کے دل کو عجیب سی ٹھیس پہنچی ۔۔۔۔ اسے ولی سے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔ اس نے آنکھیں جھپک کر تمام آنسو اندر اتارے اور سامنے سڑک پر دیکھنے لگ گئی ۔۔۔ ولید ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو بھی اس کا دھیان زجاجہ کی طرف ہی تھا ۔۔۔۔ "پتا نہیں کیسے آئی ہو گی ۔۔۔ آج دھوپ بھی تو تیز ہو رہی ہے ۔۔۔۔ مجھے رکنا چاہیے تھا ۔۔۔ میں بھی کبھی کبھی حد ہی کر دیتا ہوں بس " اس نے خود کو کوسا ۔۔۔۔ اس نے بیا کو میسج کیا ۔۔۔ "بیا زجاجہ آ گئی کیا " "جی سر " بیا کا مختصر سا جواب موصول ہوا تو ولید مطمئن ہو گیا ۔۔۔۔ محبت بھی عجیب چیز بنائی بنانے والے نے ۔۔۔۔ نہ اتنی ہمت دی کہ اپنی مرضی سے انسان چھوڑ سکے اور نہ اتنی اجازت دی کہ اپنی مرضی سے ساتھ رکھ سکے ۔۔۔۔ پابندیوں کے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان محبت نام کی وادی بنا دی۔۔۔۔۔ جس نے اس میں رہنا ہے وہ ان پہاڑوں کے درمیان ہی رہے گا ۔۔۔۔ جو باہر آئے گا وہ مجرم ہو جائے گا ۔۔۔ کوئی مصلحت پسند اس شرط پر راضی ہو کے داخل ہو گیا تو کوئی دیوانہ باغی ہو کر اس وادی میں رہتا بھی رہا اور ان پہاڑوں کو سر بھی کرتا رہا ۔۔۔ اور وہ مصلحت پسند اور باغی کبھی کبھی ولید حسن اور زجاجہ سکندر بھی کہلائے ۔۔۔۔ نقاش ولید کے اضطراب سے واقف تھا ۔۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ ولید کس کرب سے گزر رہا ہے ۔۔۔۔ اس کے لئے زجاجہ کو نظر انداز کرنا آسان نہیں تھا ۔۔۔۔ لیکن اس نے صحیح راستے کا انتخاب کیا تھا اس لئے نقاش اسے روک بھی نہیں سکتا تھا ایسا کرنے سے ۔۔۔۔ "وہ ایک پڑھی لکھی باشعور لڑکی ہے ۔۔۔۔ شی ول انڈرسٹینڈ یو ۔۔۔ تم اس سے بات تو کر کے دیکھو ۔۔۔۔ اصل وجہ بتاؤ تو سہی ۔۔۔ اس طرح تو تم اس کو تکلیف دے رہے ہو ولید " نقاش نے اسے سمجھایا "وہ نہیں سمجھے گی ۔۔۔۔ میں جانتا ہوں اس کو ۔۔۔۔ اس کے لئے سب سے بڑی حقیقت ولید حسن ہے ۔۔۔۔ نہ کچھ اس سے پہلے نہ کچھ اس کے بعد " ولید کے لہجے میں بلا کا اعتبار تھا ۔۔۔۔ نقاش دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ "وہ دیوانی ہے یار ۔۔۔۔ اور دیوانگی کب مانتی ہے ہوش کی دنیا کی باتیں ۔۔۔ یو نو وہ نماز پڑھتی ہے ۔۔۔ دوسروں کا خیال رکھتی ہے ۔۔۔۔ اپنی حدود سے واقف ہے ۔۔۔۔ سمجھدار ہے ۔۔۔ میچور ہے ۔۔۔۔ لیکن پتا نہیں کیوں مجھ پہ آ کے اس کی ساری میچورٹی ختم ہو جاتی ہے " "ہممم ۔۔۔۔ صحیح ۔۔۔میرا مشورہ پھر بھی یہی ہے کہ تم اسے سامنے بٹھا کے ہر بات سمجھاؤ" "میں جس چیز سے نکلنا چاہتا ہوں تو مجھے پھر اسی میں ڈال رہا ہے ۔۔۔۔ اس طرح اکیلے میں ملنا ٹھیک نہیں ہے اور سب کے سامنے میں سمجھانے سے رہا " ولید نے تیز آواز میں کہا "کم آن ولید ۔۔۔۔ اتنا بھی ظلم نہیں ہے کہ بات کرنے پہ تجھے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔۔۔ اور اگر ایسی بات ہے نا تو تیری پکڑ زجاجہ کے اس ایک اس ایک آنسو پر بھی ہو سکتی ہے جو تیری وجہ سے نکلا ہو گا " نقاش ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کبھی یوں بھی تو ہو دریا کا ساحل ہو پورے چاند کی رات ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو پریوں کی محفل ہو کوئی تمہاری بات ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو یہ نرم ملائم ٹھنڈی ہوائیں جب گھر سے تمہارے گزریں تمہاری خوشبو چرائیں میرے گھر لے آئیں کبھی یوں بھی تو ہو سونی ہر منزل ہو کوئی نہ میرے ساتھ ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو یہ بادل ایسا ٹوٹ کے برسے میرے دل کی طرح ملنے کو تمہارا دل بھی ترسے تم نکلو گھر سے کبھی یوں بھی تو ہو تنہائی ہو ،دل ہو بوندیں ہوں برسات ہو اور تم آؤ کبھی تو یوں بھی ہو موسم نے آج پھر انگڑائی لی تھی ۔۔۔۔ ٹھنڈی ہوا نے ہر چیز ہر منظر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔۔۔۔ زجاجہ سکول سے چھٹی پہ تھی ۔۔۔۔ اس کا سر بوجھل ہو رہا تھا ۔۔۔۔ ماما اسے آرام کرنے کا کہہ کے پڑوس میں گئی تھیں ۔۔۔۔ زجاجہ اٹھ کے باہر آ گئی ۔۔۔۔ تیز ہوا کا جھونکا اس کے بالوں کو چھیڑتا ہوا گزر گیا ۔۔۔۔ سردی کی وجہ سے اس کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی ۔۔۔۔ اس نے اپنی شال درست کی اور باہر ہی بیٹھ گئی ۔۔۔۔ ہر طرف جیسے اداسی چھائی تھی ۔۔۔۔۔ بادل ابھی بھی چھائے ہوئے تھے ۔۔۔۔ رات سے موسم ایسا تھا ۔۔۔ وہ چپ چاپ بیٹھی آسمان پر کچھ کھوج رہی تھی ۔۔۔۔ دور کہیں کوئی درد بھری آواز محبت کی حقیقت بیان کر رہی تھی ۔۔۔۔ "محبت اچ دل چوں پلیکھے نہیں جاندے محبت دے مجبور ویکھے نہیں جاندے محبت نے مجنوں نو کاسہ پھڑایا محبت نے رانجھے آں جوگی بنڑایا محبت دے لٹے تے ہو جانڑ دیوانے اے جس تن نوں لگدی اے او تن جانڑے " ایک ایک۔لفظ زجاجہ کو اپنے دل پہ اترتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔ وہ غور سے سننا شروع ہو گئی ۔۔۔۔ " محبت دی دنیا دے دستور وکھرے محبت دی نگری دے مجبور وکھرے محبت دلاں دی کدورت مٹاوے محبت ای بندے نو رب نال ملاوے محبت نے یوسف نو مصرے وکایا محبت زلیخا نو وی آزمایا محبت دے وکھرے نے تانڑے تے بانڑے اے جس تن نو لگدی اے او تن جانڑے " زجاجہ کے آنسو اس کے گال بھگونے لگے ۔۔۔۔۔وہ سوچ رہی تھی کس کو الزام دے ۔۔۔ ولید کو کہ وہ بدل گیا تھا ۔۔۔۔ خود کو کہ وہ محبت کر بیٹھی تھی یا محبت کو جو ایک صحیفے کی طرح اس کے دل کے درو دیوار پر اتری تھی ۔۔۔۔ آواز ابھی بھی آ رہی تھی "محبت دے رونڑے تے ہاسے نے وکھرے محبت دی جھڑکاں دلاسے نے وکھرے محبت نے کڈیاں نے دودھ دیاں نہراں محنت نئیں منگدی کسے دیاں خیراں محبت دی سب توں اے وکھری کہانی نہ سکھی راجہ تے نہ سکھی رانی محبت نے جتنے وی گائے ترانے اے جس تن نوں لگدی اے او تن جانڑے ۔۔۔۔ آنسوؤں میں روانی آ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ اٹھ کے کمرے میں آ گئی ۔۔۔۔ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ کر بیٹھے ہوۓ اسے چند لمحے ہی گزرے تھے کہ اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ولید نے اسے بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔۔۔۔ لیکن کچھ غلط تھا جس کے متعلق انہیں محتاط رہنا پڑے گا ۔۔۔۔ اس نے یونیورسٹی جا کر زجاجہ کو میسج کیا کہ وہ فری ہو کر اس سے ملے ۔۔۔۔ زجاجہ کی کلاس ختم ہوئی تو وہ بیا کو بتا کر انگلش ڈیپارٹمنٹ کی جانب آ گئی ۔۔۔۔ ولید اس کے ساتھ چلتا کیفے میں آ گیا ۔۔۔۔ کونے والی ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے اس نے زجاجہ کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ وہ چپ چاپ بیٹھ گئی ۔۔۔۔ وہ اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی ۔۔۔ یہ اس کی پرانی عادت تھی ۔۔۔۔جب بھی پریشان ہوتی انگلیاں مروڑنے لگتی ۔۔۔۔ "سنو"....وہ اس سے مخاطب ہوا ....انداز ایسا تھا جو اس بے پرواہ سی لڑکی کو بھی چونکا گیا....وہ چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے اسے دیکھ رہی تھی.....ولید زمین پر نظریں گاڑھے بولا ..... "میرا تمہاری محبت پر اور اس کی سچائی پر یقین ہے ....میں یہ بھی نہیں کہتا کہ تم غلط ہو .....یہ جذبہ اختیاری نہیں ہوتا .... لیکن" ..... وہ بات کرتے کرتے رکا وہ اس کے بے پناہ مردانہ وجاہت لیے چہرے پر نظر جمائے دم سادھے بیٹھی تھی...... اس کی آنکھوں میں ایک انجانا خوف تھا جیسے ابھی اس کو موت کی سزا سنائی جانے والی ہو ....... ولید نے ایک نظر اپنے سامنے بیٹھی اس پاکیزہ سی لڑکی پر ڈالی اور بات جاری رکھتے ہوئے بولا ... "لیکن میرا زندگی کے متعلق نظریہ بدل چکا ہے ...... میں زندگی کو کسی اور لائن پر لانا چاہتا ہوں ......جو تم ہو وہ کوئی بھی نہیں ..میرا یقین کرو .... میں غلط نہیں ہوں .....لیکن یہ راستہ غلط ہے .....مجھے اب احساس ہوا " وہ چپ چاپ اٹھی ......ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی اور وہاں سے ایسے چل دی جیسے کوئی کافر مسجد سے نکالا جاتا ہے ......

   0
0 Comments