Add To collaction

لیکھنی ناول-22-Oct-2023

تم کو مانا منزل اور دل مسافر ہو گیا از اریج شاہ قسط نمبر11 آخری قسط

دعا کیا کر رہی ہو مصطفی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا۔ اگر وہ دونوں اس وقت گھر میں ہوتے تو مصطفی اس کا دماغ ٹھکانے لگا دیتا کیا کر رہی ہوں میں اس آدمی کو فوٹو بنانا آتا ہی نہیں ہے بس کیمرہ پکڑ کر کھڑا ہوگیا ہے آج اس کا ولیمہ تھا اور اس وقت ہال میں اس کی پولیس فورس کے بہت سے لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ شرک تھے ۔ اور مصطفی کو اس کی بچکانہ حرکتوں پر غصہ آ رہا تھا ۔ وہ پرفیشنل ہے مصطفی کا صبر اب جواب دے چکا تھا لیکن پھر بھی چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائے وہ غصہ کنٹرول کر رہا تھا ۔ ایسے ہوتے ہیں پروفیشنل لوگوں مصطفی یہ آدمی میرے ولیمے کیاالبم کا بیڑا غرق کر رہا ہے اور آپ مجھے آنکھیں دکھا رہے ہیں ۔ السلام علیکم مصطفیٰ ابھی مصطفٰی سے آنکھیں دکھا ہی رہا تھا جب پیچھے سے اس کے دوست نے سلام کیا ۔ ۔وہ باتوں میں مصروف ہو گیا تو دعا موقع دیکھ کر وہاں سے نکل گئی بھابھی سے تو ملوا دوست نے کہا تو مصطفی کو بھی خیال آیا کہ اس وقت وہ اپنے ولیمے کی تقریب پر ہے ۔ لیکن دعا نہ جانے کہاں چلی گئی وہ تو ویسے بھی مصطفیٰ کے ہاتھوں سے کب سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ نظر گھمانے پر وہ اسے مہمانوں کے ساتھ کھڑی نظر آئی ۔ جو ایک لڑکی کے ساتھ مل کر اس کے بچے سنبھالے میں ہلکان یہ پروا کیے بغیر کے وہ اس وقت دلہن کے روپ میں ہے ۔ ۔ دعاآپ بے کار میں پریشان ہو رہی ہیں یہ ابھی چپ ہو جائے گا وہ دلہن بننے بچے کو اٹھائے اسے چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی جیسے اس کا اپنا بیٹا ہو۔ میں سمجھ سکتی ہوں دو بچوں کو ایک ساتھ سمالا کتنا مشکل ہوتا ہے دعا نے بچےکو سنبھالتے ہوئے اس کو دیا ۔ دعا تم یہاں کیا کر رہی ہو مصطفی نے مسکراتے ہوئے مہمانوں کو سلام کیا اور دعا سے پوچھا ۔ آپ بہت لکی ہیں مصطفی بھائی دعا جیسے ساتھی پا کر وہ صرف اچھی لڑکی ہی نہیں بلکہ فیوچر میں بہت اچھی ماں ثابت ہوگئی لڑکی نے مسکرا کر دعا کی تعریف کی۔ جس پر مصطفیٰ مسکرا دیا دعا چلو مجھے تمہیں کچھ لوگوں سے ملانا ہے ان دونوں سے معذرت کر کے وہ اسکا ہاتھ زبردستی پکڑ کر اپنے ساتھ لے کر جانے لگا کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ ایک جگہ ٹک نہیں بیٹھ سکتی مصطفی دھیمی آواز میں غرایا ۔ آپ کو اپنے دوستوں سے فرصت نہیں ملتی اور آپ چاہتے ہیں میں اتنی دیر ایک ہی جگہ ایک ہی پوزیشن میں ٹک کر بیٹھی رہو دعا تم آج کی دلہن ہو صرف آج آرام سے بیٹھ جاؤ کل سے تم آزاد ہو جو چاہے وہ کرنا مصطفیٰ نے سمجھانا چاہا ۔ ابھی وہ ا سے سمجھا ہی رہا تھا کہ مصطفی کے سینئر آ کے اس کے پاس کھڑے ہوئے جس پر دعا کا موڈ اور آف ہوگیا ۔ آپ پھر سے مصطفی کی تعریفوں کیے لمبے لمبے پیراگراف سٹارٹ ہونے والے تھے جس سے دعا پہلے ہی بیزار ہو چکی تھی ۔ شادی=بہت بہت مبارک ہو انسپیکٹر مصطفی اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اور رسمی انداز میں بولے دعا نے اپنے کانوں کو مصطفی نامہ سننے کے لئے تیار کرلیا ۔ مسزمصطفی آج ہر کوئی آپ کے ہسبنڈ کی تعریف کر رہا ہے بے شک وہ اس قابل ہیں لیکن ان کے لاسٹ کیس میں آپ نے بھی بہت بہادری کا مظاہرہ کیا ہے ۔ بے شک آپ بہت بہادر ہیں اگر آپ وقت پر پولیس سٹیشن پہنچ کر حبر نہ پہنچاتی تو یقیناً یہ کیس بہت مشکل ہو جاتا طارق بھٹی اور یاسر خان اس وقت جیل میں ہیں اس میں آپ کا بھی بہت اہم ہاتھ ہے وہ جو کوئی بھی تھا اس کو جاننے میں دعا کو کوئی انٹرسٹ نا تھا وہ تو بس اپنی تعریف پر کھل اٹھی ۔ ارے یہ تو کچھ بھی نہیں اگر آپ کے آفیسر میرا انتظار کرتے تو میں طارق انکل کو الٹا لٹکا دیتی دعا اپنی تعریف پر چہکتے ہوئے بولی ۔ جب مصطفی نے سختی سے اس کاہاتھ پکڑکر بولنے سے روکا ۔ تھینک یو سو مچ سر مصطفی نے مودبانہ انداز میں کہا ان کے جانے کے بعد دعا کو گھورنے لگا ۔ تم کیا اپنا منہ بند نہیں رکھ سکتی مصطفیٰ نے گھور کر کہا جس پر دعا منہ بن گیا آپ نے مجھے ڈانٹا میں ابھی تایا ابو کو بتاتی ہوں دعانے روتی شکل بنا کر کہا ۔ پیچ کلر کی فراک میں چہرے کے سبھی نقوش کو خوبصورتی سے سجایا ہے آج تو وہ مصطفی کے دل میں اتر رہی تھی اس وقت کم از کم وہ اس کے روٹھنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا لیکن دعا کی حرکتیں ۔ میں ڈانٹ نہیں رہا بس یہ کہہ رہا ہوں کہ اپنی حرکتوں کو کنٹرول کرو پارٹی میں بہت بڑے بڑے بزنس مین شامل ہیں اور ان کی وجہ سے میڈیا والے بھی میں نہیں چاہتا کہ تمہاری کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت سے انہیں مسالہ ملے ۔ تو پلیز تم خود پر کنٹرول کرو مصطفیٰ نے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سے جاکر کہا ۔ ٹھیک ہے آج رات آپ صوفے سوئیں گے دعا نے ایسے شرماتے ہوئے کہا جیسے مصطفی نے کوئی رومنٹک بات کی ہو ۔ ان کی طرف متوجہ لوگ دبی دبی ہنسی ہنسنے لگے جس پر دعا مزید شرمائی اور مصطفٰی سے دیکھ کر رہ گی 💕 اللہ اللہ کر کے فنکشن ختم ہوا تو دعا نہ گھر آتےہی جیولیری اور کپڑے اتارنے کا تکلف کیے بغیر سو گئی ۔ آنکھ تب کھلی جب اپنے چہرے پہ کسی کے لبوں کا لمس محسوس کیا۔ ذرا سی آنکھ کھول کر دیکھا تو مصطفی اس کے چہرے پر جھکا اپنے لبوں سے اس کے چہرے پر مہر ثبت کر رہا تھا ۔ وہ ذرا سا مسکرائی تھی پھر اچانک سے کچھ یاد آیا دھکا دے کر مصطفی کو خود سے دور کردیا کیا مسئلہ ہے ہے آپ کے ساتھ سارا دن تو مجھے ڈانٹتے ہوئے گزار دیا اب بڑے آئے پیار کرنے والے دورہٹیں مجھ سے اور جا کر صوفے پر سو جائیں دعا نے منہ بسور کر کہا دعا یار تمہاری حرکتیں ہی ایسی ہیں کہ مجھے ڈانٹنا پڑتا ہے مصطفی نے ایک بار پھرکھینچ کر اسے اپنے قریب کیا ۔ اور اس کی صراحی گردن سے نیکلیس اتار کر اس پر جھکنے لگا جب دعا نے ایک اور دھکا مار کر اسے خود سے دور کیا ۔ ہاں تو اب بھی میری حرکتیں ویسی ہی ہیں اب کیوں پیار آ رہا ہے اب ڈانٹیں نہ ۔ دعا نے غصے سے کہا جس پر مصطفی مسکرا یا ۔ آپ ڈانٹنے کا وقت نہیں ہے بیوی اب تو بس پیار کرنے کا وقت ہے وہ اس کے لبوں پر جھک کر شوخ جسارت کر گیا ۔ دعا اس کی حرکت سمٹ سی گی خبردار جو میرے پاس آنے کی کوشش کی پہلے آپ کو مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا کہ آپ مجھے کبھی نہیں ڈانٹیں گے اور نہ ہی اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے گھور کا مجھے ڈراہںں گے اگر آپ نے میری بات نہیں مانی تو آپ کو روز صوفے پر سونا ہوگا دعا نے شرط رکھتے ہوئے کہا جیسے مصطفی نے فوراً قبول کر لیا ۔ ہاں ٹھیک ہے کبھی نہیں ڈانٹوں گا اب تو پاس آؤ ایک جھٹکے سے کھینچ کر اپنے قریب کیا اور اٹھا کر بیڈ پر لے آیا اور کبھی حکم بھی نہیں چلائیں گے دعا کو کچھ اور بھی یاد آگیا ہاں یار کبھی نہیں چلاؤں گا اب چپ ۔ مصطفٰی نے اس کے لبوں کو اپنے ہوںٹھوں میں قید کیا ۔ اور اپنے آپ کو سیراب کرنے لگا آج سارا دن اسے دلہن کے روپ میں دیکھ کر اس نے کیسے گزارا تھا یہ وہی جانتا تھا اس وقت اگر دعا سے یہ کہہ دے کہ اپنی نوکری سے استعفیٰ دیں تو شاید وہ یہ بھی کر گزر تھا چاندنی سے بھری اس خوبصورت رات میں وہ دعا کے وجود میں کھو سا گیا 💕 صبح مصطفی کی آنکھ کھلی تو دعا کہیں نہیں تھی رات ہی مصطفی نے دعا کو بتایا تھا کہ ایک دعوت پر جانا ہے لیکن اب دعا نے ایک اور کارنامہ سرانجام دے دیا تھا ۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ دعا سعدیہ کے گھر گی ہوئی ہے گیٹ ٹو گیدر پارٹی کرنے کے لیے ۔ بس پھر کیا تھا دوپہر ایک بجے کے قریب واپس آئیں اور مصطفی اپنے تمام تر رات کے وعدے بھول کر اسے ڈانٹنے لگا اس کے بعد سے دعا نے اس سے بات کرنا بند کردیا ۔ شام کو وہ پنک کلر کی خوبصورت سے فراک پہن کر اس کے ساتھ دعوت پر گی ۔ وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ مصطفی کا دل ایک بار پھر سے اس کے لیے مچلنے لگا لیکن آج اس نے صبح سے ہی سے ہری جھنڈی دکھا دی تھی دعا کو پتا تھا کہ اس پر پنک کلر بہت سوٹ کرتا ہے اس لیے اس نے جان بوجھ کر یہ کلر پہنا تاکہ وہ بہت پیاری لگے اور پھر مصطفی کو جی بھر کر تنگ کرے رات وہ گھر واپس آئے تو مصطفی نے ایک بار پھر سے اپنے قریب کرنا چاہا جب دعا نے ا سے دن کے واقعے کے بارے میں بتایا اور کل رات کے وعدے بھی یاد لائے ۔ مصطفی نے ایک بار پھر سے سوری بولا اور وہی سارے وعدے دوبارہ کیے اور پھر تقریبا دو گھنٹے بعد دعا کو کان پکڑ کر منایا ۔ پہلے دعانے خوب نخرے دکھائیں پھر آخر کار وہ مان ہی گئیں ۔ لیکن اگلی صبح دعا نے ایک اور کارنامہ کر دیا ۔ جس پر مصطفی کا غصہ ضبط کرنا مشکل ہوگیا ۔ اور اب آج پھر رات کو وہ سے منا رہا تھا 💕 ختم شد

   0
0 Comments