لیکھنی کہانی -24-Oct-2023
قسمت کے کھیل کسی زمانے میں ایک گاؤں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا،اس کا نام اسلم تھا۔وہ رسیاں بیچ کر اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ایک روز اس کی دکان پر ایک سوداگر آیا۔سوداگر کے ساتھ اس کا ایک دوست بھی تھا۔اسلم ان کو رسے دکھانے لگا۔ سوداگر نے اپنے دوست سے کہا”میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ دنیا میں ترقی اس لئے کر جاتے ہیں کہ ان پہ قسمت اچانک مہربان ہو جاتی ہے۔اب اس آدمی کو دیکھ لو اگر کہیں سے کوئی رقم اس کے پاس آ جائے تو اس کا کاروبار چل نکلے گا اور یہ خود رسے بنانے کے بجائے بیسیوں ملازم رکھ لے گا۔“ ”معاف کرنا جناب!“اسلم نے ان کی باتوں میں دخل دیتے ہوئے کہا”آپ درست فرما رہے ہیں،لیکن میرے پاس اتنی رقم آئے گی کہاں سے․․․؟“ سوداگر بولا”دینے والی تو وہ پاک ذات ہے،اس نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔جب میں کسی آدمی کو امداد کا حق دار دیکھتا ہوں تو اس کی ضرور مدد کرتا ہوں۔یہ بتاؤ کہ تم کتنی رقم سے اپنا کاروبار شروع کر سکتے ہو․․․؟“ اسلم گھبرا گیا اور بولا”جناب عالی مجھ غریب کے لئے تو صرف بیس اشرفیاں ہی کافی ہوں گی۔“ سوداگر نے اپنے ہاتھ سے فوراً بیس اشرفیاں دیں اور کہا”لو اپنا کام چلاؤ،دیکھیں قسمت کہاں تک تمہارا ساتھ دیتی ہے۔“ اس سے پہلے کہ اسلم کچھ عرض کرتا وہ دونوں سوداگر جلدی سے باہر نکل گئے۔اسلم کچھ دیر تک تو اشرفیوں کو حیرانی سے دیکھتا رہا پھر گھر جا کر ان کو آٹے کے مٹکے میں چھپا کر رکھ دیا اور سو گیا۔ صبح اٹھ کر اس نے مٹکے کو دیکھا تو وہ غائب تھا۔اس نے بیوی کو آواز دی۔”آٹے والا مٹکا کہاں ہے․․․․؟“ ”وہ تو میں نے حجام کی بیوی کو دے کر اس سے مہندی خرید لی ہے۔“ ”ارے احمق!اس میں تو بیس اشرفیاں تھیں جا اور بھاگ کر واپس لے آ۔“ اسلم کی بیوی بھاگم بھاگ حجام کی بیوی کے پاس پہنچی تو معلوم ہوا کہ اس نے مٹکے کو کباڑ کی دکان پر بیچ دیا ہے۔بیوی منہ لٹکائے واپس آ گئی اور سارا ماجرا بیان کر دیا۔اسلم سر پیٹ کر رہ گیا۔ ایک دن وہ دونوں سوداگر ایک بار پھر اس کی دکان پر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی دکان ویسے کی ویسی ہے۔ ان کے پوچھنے پر اسلم نے سارا ماجرا بیان کر دیا۔”فکر نہ کرو․․․․“سوداگر نے کہا”یہ لو بیس اشرفیاں اور اس مرتبہ دیکھتے ہیں کہ تمہاری قسمت کہاں تک ساتھ دیتی ہے۔“اسلم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ دونوں چلے گئے۔ اس مرتبہ اسلم نے اپنی بیوی کو بتا دیا اور اشرفیاں اپنے بستر کے پہلو میں باندھ دیں اور سو گیا۔ اس کے بستر کے قریب ہی دیوار میں چوہوں کا بل تھا۔رات کو چوہے اس کے بستر کے پہلو سے اشرفیاں نکال نکال کر اپنے بل کے اندر لے گئے۔اسلم صبح اُٹھا تو اس نے دیکھا کہ اشرفیاں غائب تھیں وہ پھر سر پیٹ کر رہ گیا۔ چند روز بعد وہ دونوں سوداگر اس سے پھر ملنے کے لئے آئے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی دکان کا حال ویسے کا ویسا ہی ہے تو انہوں نے اسلم سے کہا”تم نے دوسری مرتبہ بھی اشرفیاں گنوا دیں۔“ جب وہ جانے لگے تو سوداگر کے دوست نے اس سے کہا”آج ہمارے پاس اشرفیاں تو نہیں ہیں،لیکن یہ ایک سیسے کی دھات کا ٹکڑا ہے،یہ لے لو شاید یہ تمہارے کسی کام آ سکے۔“ یہ کہہ کر وہ دونوں چل دیے۔اسلم نے گھر آ کر سیسے کا وہ ٹکڑا ایک کونے میں پھینک دیا اور اپنی قسمت پر آنسو بہانے لگا۔ آدھی رات ہو چکی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔اسلم دروازے کی طرف بڑھا،وہاں مچھیرے کی بیوی کھڑی تھی وہ بولی”میرا شوہر مچھلیاں پکڑنے کے لئے جال تیار کر رہا ہے کل صبح اس کو مچھلیاں پکڑنے جانا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے پاس جال کے ساتھ لٹکانے کے لئے کوئی وزن نہیں ہے کیا بھائی صاحب آپ کوئی بات یا دھات کا ٹکڑا دے سکتے ہیں․․․․؟“ اسلم نے بغیر کچھ کہے سنے وہ سیسے کا ٹکڑا جو سوداگر کے دوست نے دیا تھا،اُٹھا کر اسے دے دیا۔ اگلے روز مچھیرے نے ہزاروں مچھلیاں پکڑیں اور پھر اس نے سب سے بڑی مچھلی دے کر اپنی بیوی کو اسلم کے گھر بھیجا۔اسلم کی بیوی نے مچھلی کے قتلے کیے تو اس کے پیٹ میں سے ایک چمکدار پتھر نکلا۔پتھر کی چمک اتنی زیادہ تھی کہ اسلم کو رات کے وقت اپنے گھر میں دیا جلانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔اگلے روز ان کے گھر ایک تاجر کی بیوی آئی اور اس نے اسلم کی بیوی سے دریافت کیا کہ”رات تمہارے گھر میں روشنی کیسی تھی۔“ بیوی نے سارا حال کہہ سنایا تو وہ کہنے لگی”اگر تم چاہو گی تو میں تمہیں پانچ اشرفیاں دینے کے لئے تیار ہوں وہ پتھر تم مجھے دے دو۔“ اسلم کی بیوی نے کہا”میں اپنے شوہر سے پوچھ کر بتاؤں گی تم کل آ جانا۔“ اسلم جب گھر آیا تو اس کی بیوی نے سارا ماجرا بیان کیا اسلم کہنے لگا”تم نے اچھا کیا کہ یہ پتھر اس کو نہیں دیا وہ اس کی قیمت پانچ اشرفیاں لگا رہی ہے تو یقینا یہ قیمتی پتھر ہو گا،وہ کل آئے گی تو تم انکار کر دینا۔“ اگلے روز جب تاجر کی عورت آئی تو اسلم بھی گھر میں تھا اس نے وہ پتھر دینے سے انکار کیا لیکن عورت سودے بازی کرنے لگی۔آخر تنگ آ کر اسلم نے عورت سے کہا کہ اگر تمہارے پاس ہزار اشرفیاں ہیں تو وہ دے دو اور یہ لے لو۔ ”منظور ہے“۔عورت نے کہا اور فوراً گھر جا کر ہزار اشرفیاں لے کر آ گئی اور پتھر لے لیا۔ اب اسلم ہزار اشرفیوں کا مالک تھا۔اس کا کاروبار دن بہ دن ترقی کی طرف گامزن تھا۔ایک دن وہی سوداگر دوبارہ آیا تو اسلم کے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر حیران رہ گیا۔تقدیر کے کھیل نرالے ہیں جو کام اشرفیاں نہ کر سکیں،وہ سیسے کے ایک بے کار ٹکڑے نے کر دکھایا۔ اخلاقی کہانیاں:قسمت کے کھیل