Add To collaction

لیکھنی کہانی -30-Dec-2023

مسجد اقصی ظلم کا شکار

خانہ کعبہ کے بعد مسلمانوں کی اگر کوئی دوسری عبادت گاہ قائم ہوئی ہے تو سب سے پہلے مسجد اقصیٰ کا قیام وجود میں آیا ہے اور قرآن میں سفر معراج کے باب میں اس مسجد کا ذکر آیاہے۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس مقام ہے ۔مسجد اقصیٰ در حقیقت مسلمانوں کی میراث ہے جو تاریخی اور مذہبی حقائق سے ثابت ہے مگر یہ جس جگہ پر تعمیر کی گئی ہے یہود کے مطابق اس جگہ پہلے ہیکل سلیمانی تھا۔ مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام نے کروائ حتیٰ کہ اس کو ایک روایت کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام نے جناتوں سے تعمیر کرائی تھی لیکن اس کو ہیکل سلیمانی قرار دینا تاریخی اعتبار سے غلط ہے،ہیکل کا لفظ رہائش گاہ،محل یا دربار کے لئے استعمال ہوتا ہے غالب گمان ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی رہائش کے لئے حجرہ بھی مسجد میں تعمیر کرایا ہو اس لحاظ سے اسکو ہیکل سلیمانی یعنی حضرت سلیمان کا محل یا حجرہ کے نام سے منسوب کر دیا گیا ۔حالانکہ یہ مسجد فی الواقع زمین پر دوسری تعمیر ہونے والی مسجد ہے۔ 21 اگست 1969 کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلہ اول کہ آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹوں تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوبی مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا محراب کا وہ ممبر جس کو صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا وہ بھی نذر آتش ہو گیا تھا(صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کے لئے تقریباً 16جنگ لڑی اور ہر جنگ کے دوران وہ اس ممبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تاکہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔) یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور مسجد اقصیٰ کو گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں' حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کر سکے کہ ہیکل سلیمانی یہی تعمیر تھا۔ طالب دعا ء ڈاکٹر عبدالعلیم خان قاسمی adulnoorkhan@gmail.com

   17
0 Comments