لیکھنی کہانی - انگور فروش اور انگور کے دانے
راہ چلتے ایک خوانچہ فروش پر نظر پڑی ، جو انگور کے خوشے ترتیب وار لگا رہا تھا اور گاہے گاہے
راہگیر کو تک بھی رہا تھا
میں قریب گیا اور کہا بھیا :
انگور کا مول کیا ہے ؟
اس نے کہا : صاحب اُسی روپے کلو، میں نے کہا ایک کلو تول دو
اچانک میں نے دیکھا کہ کچھ انگور کے دانے ایک طرف بے ترتیب پڑے ہوئے ہیں ،
میں نے پوچھا کہ بھائی یہ انگور کے دانے کیسے دئے ؟
خوانچہ فروش نے کہا کہ صاحب صرف تیس روپے کلو!
میں نے تعجب سے پوچھا کہ خوشہ دارا نگور اور ان دانوں کے بیچ اتنا فرق کیوں ہے ؟
خوانچہ فروش نے کہا کہ یہ دانے بھی اچھے ہیں لیکن ..... چونکہ یہ اپنے خوشے سے ٹوٹ گئے ہیں
میں نے بٹوے سے اپنی روپئے نکال کر اسے دئے اور انگور لیکر چل دیا اور سوچ رہا تھا کہ جب تک یہ انگور خوشہ کے ساتھ جُڑے ہوئے تھے انکی قیمت موجودہ قیمت سے
دو گئی تھی اور جب یہ اپنے خوشہ سے الگ ہوئے یکسر انکی قیمت گھٹ گئی
ایسا ہی ہوتا ہے جب کوئی اپنے سماج ، سنگٹھن ، جماعت، معاشرہ ، پریوار سے جدا ہو جاتا ہے تو
یقینا اسکی قیمت گھٹ کر آدھی سے بھی کم رہ جاتی ہے
Mohammed urooj khan
19-Feb-2024 12:26 PM
👌🏾👌🏾👌🏾
Reply