دھول
اگلے دن رسم کے مطابق رانا آفاق کی فیملی فارہ کو لینے آئی تھی مگر عا صم نے صاف انکار کر دیا . " عا صم بھائی اپ طاہرہ کی سزا فارہ کو نہیں دے سکتے ." اطہر غصے سے بولا .
" اطہر ! تم خاموش رہو . فارہ اب اس کی ذمہ داری ہے وہ ٹھیک کہہ رہا ہے . چلو اٹھو چلتے ہیں ." رانا آفاق نے کہتے ہی رضیہ بیگم کو اٹھنے کا اشارہ کیا .
" لیکن ابو ! میں فارہ کو لئے بغیر نہیں جاؤں گا ." اطہر کا دل اپنی معصوم بہن کے لئے تڑپ رہا تھا . جبکہ رانا آفاق نے اپنا دل پتھر کا کر لیا تھا .
" بھائی پلیس ! آپ جائیں . ابو جیسے کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک ہے .' فارہ کی آنسوؤں بھری کانپتی آواز آواز اطہر ور اس کی ماں کا دل چیر گئی تھی .
" فارہ ابھی تمہارا بھائی زندہ ہے ! " اطہر چیخ پڑا تھا .
" بھائی ! آپ چلے جائیں پلیز !" فارہ نے کچھ اس لہجے میں کہا تھا کہ اتھرکو اپنے قدم باہر کی طرف موڑنے ہی پڑے.
" شاباش اسی طرح تمہیں اپنی سزاؤں کے لئے مضبوط کرنا ہو گا ." وہ دو قدم بڑھا کر اس تک آیا تھا .
" اور کان کھول کر سن لو ! آج کے بعد گیٹ تو کیا صحن میں بھی نظر نہ آؤ! نہ موبائل کو ہاتھ لگاؤ گی ! نہ ہی گلی محلے کی کسی عورت سے ملو گی ! بات دہرانے کی مجھے عادت نہیں ہے ' کبھی بھولنا مت ." عا صم نے اسے بازوؤں سے سختی سے پکڑ کر کہا تھا اور پھر دھکا دے کر صوفے پر پٹخ دیا تھا .
رانا آفتاب اور راحیلہ بیگم گم صم سے بیٹھے رہ گئے تھے . آخر وہ کیا کرتے ایک ہی تو بیٹا رہ گیا تھا ان کا .رانا آفتاب نے تو بہت دور کی سوچی تھی کہ فارہ کو اپنے گھر لا کر سب کچھ ان کے ہاتھ میں آ جاۓ گا . ان کی بیتی نازلی بھی محفوظ رہے گی اور فاخر بھی . رانا آفتاب اتنا تو جان گئے تھے کہ عا صم جتنا بھی فارہ پر تشدد کر لے وہ زبان نہیں کھولے گی . یقینا بات درمیان میں کچھ اور ہے اور غلطی بھی اپنے بائٹ کی ہی نکلے گی ! مگر ان کو کیا خبر کہ عا صم اس پھول جیسی فارہ کو اتنا ٹارچر کرے گا کیونکہ انہوں نے فارہ اور طاہرہ کو بھی باپ بن کر ہی پالا تھا .
اطہر ڈاکٹر تھا . اس کی پوسٹنگ ملتان میں تھی ! لوگوں کے طعنوں سے بچنے کے لئے رانا آفاق اطہر اور نازلی کے ساتھ ملتان شفٹ ہو گئے تھے .
وقت اور مقدر نہ تو کسی کے ہاتھ میں آتے ہیں اور نہ ہی کسی کی مرضی سے چلتے ہیں . مقدر تو انسانوں کو ایسے چلاتا ہے کہ انسان محلوں سے اٹھ کر سڑک پر آ جاۓ اور محبتوں سے کھیلتا نفرتوں میں گر جاۓ . پانچ سال گزر جانے کے بعد بھی رانا آفتاب اور رانا آفاق کے گھر کا ہر فرد حیرت زد ہ کھڑا تھا . وقت نے ایسی شطرنج ان کے ساتھ کھیلی تھی کہ مقدر کی بساط پر کھیلتے مہرے سب دھول ہو گئے تھے .وقت تو گزر گیا تھا مگر عا صم کا رویہ نہیں بدلہ تھا . اس کی آنکھوں میں شرارے پھوٹتے رہتے . طاہرہ اور فاخر کا ان پانچ سالوں میں کچھ پتا نہیں چلا تھا . یہی بات عا صم کی مردانگی اور آنا پر ضرب لگاتی تھی . اس کی سوچ بہت منفی ہو گئی تھی