دھول
عا صم بیڈ پر لیتا ٹی وی دیکھ رہا تھا . بار بار چینل سرچ کرتا لا شعوری طور پر فارہ پر نظر پڑ جاتی ! جو کمبل میں لیٹی زمین پر بار بار ہل رہی تھی . عا صم نے کبھی اس کو اپنے ساتھ جگہ نہیں دی تھی .
" اگر تمہیں نیچے نیند نہیں آ رہی تو صوفے پر لیٹ جاؤ ."
فارہ جو پیٹ پر ہاتھ رکھے دوہری ہو رہی تھی ! حیرت زدہ سی عا صم کو دیکھنے لگی وہ خود کو مصروف ظاہر کرنے کے لئے ٹی وی پر نظریں جما کر بیٹھا تھا .
" میں ... یہیں ٹھیک ہوں ." کچھ دیر بعد فارہ نے حیرت پر قابو پا کر آہستہ سے کہا لہجہ بھیگا ہوا تھا . عا صم نے چونک کر اسے دیکھا .
" نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے جتنا کہا ہے اتنا کرو ."
وہ پیشانی پر بل ڈالے بولا تھا . اب فارہ اسے کیا بتاتی کہ وہ پیٹ میں اٹھنے والے شدید درد سے نڈھال ہے . اتنی ہمت ہی نہیں ہے کہ صوفے تک جا سکے . پہلے راحیلہ بیگم کو بتا دیتی تھی اور وہ گولی دے دیا کرتی تھیں . اور اب تو وہ گھر پر ہی نہیں تھیں . نازلی کے ہاں بیٹا ہوا تھا . رانا آفتاب اور راحیلہ بیگم وہیں گئے تھے ! اور فارہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا اس سنگدل ہمسفر سے کیا کہے . وہ سسکیوں کو اپنے اندر دباتے اسی کمبل میں چھپ گئی تھی . عا صم نے رد عمل کے طور پر ریموٹ پٹخا تھا . ٹی وی لائٹ ایک ساتھ بند کی اور خود سیدھا ہو کر لیٹ گیا .
" عا صم.... پلیز مجھے کہیں سے پین کلر لا دیں .' رات کا جانے کونسا پہر تھا جب عا صم کو اپنے قدموں پر سسکتی فارہ کی آواز سنائی دی ' اس نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر لائٹ ان کی ! فارہ کی آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں سے اس کے پاؤں بھیگ گئے تھے .
"میرے پیٹ میں بہت درد ہے . میں مر جاؤں گی . مجھے کہیں سے ٹیبلٹ لا دیں . " وہ روئے جا رہی تھی شاید جسم میں اٹھنے والے درد میں صبر نہیں تھا ' اسم نے گھبرا کر بے جان وجود کو بازوؤں میں سمیٹ لیا .
" چلو اسپتال لے کر چلتا ہوں."
شید فارہ بے ہوش ہو گئی تھی . وہ اسے گاڑی میں ڈال کر اسپتال لے گیا تھا .
" جب مریض ختم ہو جاتا ہے تو ادھر لے آتے ہیں . گلے کا طوق بننے کے لئے . پہلے کیا سوۓ ہوئے تھے ." پیشہ ور ڈاکٹر کا انداز سخت تھا .
"پولیس کیس بنتا ہے . کس نے کیا ہے اس پر اتنا تشدد ؟" ڈاکٹر نے فارہ کے زرد چہرے پر پڑے ہوئے زخموں کے نشان دیکھتے ہوئے کہا .
" ڈاکٹر ! تفتیش بعد میں کرنا . میری بیوی کو چیک کرو . اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں چھوڑوں گا نہیں کسی کو ." وہ شدید غصّے میں آ گیا تھا جب دوسری طرف سے آنے والے ڈاکٹر کی نظر بے ہوش پڑی فارہ پر پڑی تھی .
" اتنا سیریس مریض ہے اور تم لوگ یہاں کھڑے بحث کر رہے ہو . جلدی اندر لے کر چلو ."
fiza Tanvi
06-Dec-2021 02:27 PM
God
Reply