منہاری
اس کی آنکھوں میں سوال تھا کونسی منزل اماں ...... کیا ہماری بھی کوئی منزل ہے .....؟ پر یہی سوال زبان پہ بھی آ گیا .
" میں تو سمجھی تھی کہ ہم وقت کی چکی میں ہی گول گول گھوم رہے ہیں ."
اماں نے اسکی آنکھوں کی یاسیت کو دیکھا .
" ہاں تو پھر گول گول گھومنا اپنا چکر پورا کر ' رک کیوں گئی ہے ." یہ کہہ کر اماں اپنے اسے اس کا نگہبان نہ بنایا ہوتا . ساری ہمت جمع کر کے وہ بالی کے ساتھ آ گئی . جگنو کا مال بالی نے اسے دیا ' پیسے تھامے اور نیا آرڈر لئے بغیر ہی آ گئی . وہ چچا شفیق اور دوسری دکانوں پہ مال دینے گئی تھی لیکن جگنو کی طرف اس نے دیکھا بھی نہیں کیونکہ وہ بھرے بازار میں تماشا نہیں بننا چاہتی تھی جس چہرے میں اسے فرشتے نظر آتے تھے وہ اس پر شیطانی سایہ کیسے دیکھ سکتی تھی . دیکھ لیتی تو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی .
جگنو نے بالی کو بھی روکا اور اسے بھی دیکھا بلکہ اس کی ایک ایک حرکت کو جانچا کہ وہ کس حد تک ناراض ہے لیکن جب بالی آرڈر لئے بغیر ہی چلی گئی اور مینا نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا تو سمجھ گیا کہ بہت کچھ غلط ہو گیا ہے .
اس کا خیال تھا کہ وہ ناراض ہو گی تو وہ اسے منا لے گا . لیکن مینا نے منا لینا تو دور اسے بات تک کرنے کا موقع نہیں دیا تھا . اس نے تو اسے اجنبی کر دیا تھا بازار کا ہر آدمی اجنبی تھا . اب جگنو بھی پہلے کی طرح اسی بھیڑ کا حصہ بن گیا تھا .
وہ غلط تھا بہت غلط .... جسے وہ ساحرہ سمجھا تھا وہ تو سحر کی طرح اجلی تھی ..... وہ اس کا سحر نہیں بلکہ نور تھا جس پہ وہ دل ہارا تھا .
بھانت بھانت کی عورتیں دیکھی تھیں ' عورت کی ہر ہر ادا سے واقف تھا . لیکن مینا .... اس میں تو کوئی ادا تھی ہی نہیں . بازار سے گزر بھی جاۓ اور کسی کو پتا نہ چلے . کبھی کوئی توجہ بھی نہ دے کہ یہاں سے ابھی کوئی گزرا ہے . وہ رات جگنو پر بہت بھاری تھی . ساری رات وہ سوچتا رہا ' کڑھتا رہا . پھر اس نے ایک مشکل فیصلہ کر لیا .... بہت مشکل ... اگلے دن کا سورج اس کے لئے بہت سے نئے اور کٹھن امتحان لانے والا تھا لیکن اس نے بھی ڈٹ جانے کی ٹھانی تھی .
مینا پہ تو ہر رات ہی بھاری گزرتی تھی . پہلے زبان محبت کی مٹھاس سے نا آشنا تھی تو محرومیوں کا احساس بھی نہیں تھا . جب سے اس کمبخت زبان نے اس " مٹھاس " کو چکھا تھا پیٹ بھی بھوک کہیں بہت پیچھے رہ گئی تھی .
دن اب بھی ویسے ہی روکھے پھیکے ' صبح سے شام چوڑیاں بناتے ان کو سجاتے گزرتے تھے . چوڑیوں کو رنگوں سے سجاتے یہ خیال کہ ان رنگوں پہ اس کا کوئی حق نہیں ' اب اسے وحشت زدہ کرنے لگا تھا .
وحشت بڑھ جاتی تو ایک جنگ اس کے اندر چھڑ جاتی تھی . دل تو جیسے بٹ کر رہ گیا تھا . ایک حصہ جگنو کے حق میں دلائل دیتا تو دوسرا ان کی نفی کرتا .
साहित्य का अनूठा संगम
30-Jan-2022 12:48 PM
Good
Reply
Simran Bhagat
10-Jan-2022 08:24 PM
Good
Reply
Rony
24-Dec-2021 06:25 PM
Very good
Reply