منزل کی پہہچان
منزل کی پہچان
جویر یہ ائیر پورٹ پر بیگ گھسیٹتی ہوئی کسی سے ٹکڑا گئی ، اس نے نیچے گرے موبائل کو اٹھانے کے بعد
جونہی اُوپر دیکھا تو .
اس کی نظروں کے سامنے وہ انسان کھڑا تھا جسے برسوں پہلے اُس نے آنکھوں کی پتلیوں کے کناروں سے آنسوؤں کی ایک لمبی قطار میں بہا دیا
تھا،
کیا یہ واقعی وہی بندہ ہے؟؟؟
جو کچھ سال پہلے کافی بینگ اور سمارٹ دکھتا تھا، مگر آب (بالوں میں چاندی کی تاریں نمایاں، آنکھوں پر نظر کا چشمہ، اور سفید شلوار میض پر بلیک واسکٹ پہنے وہ بالکل کوئی انکل نما اُدھیڑ عمر آدمی لگ رہا تھا۔ جویریہ کیلئے تو اسے پہچانا بھی ایک مشکل مرحلہ
ثابت ہوا۔
وہ حیرت سے سامنے کھڑا نا سے تگ رہا تھا ... جویریہ نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے بمشل موبائل بیگ کے سامنے والی جیب کی زپ کھولی کر اس
میں میں ڈالا ۔
اور ہاتھ میں پکڑی سیاه Glasses"" لگا کر
بیگ کو بھیٹتی ہوئی آگے کو بڑھ گیا
اس کے شانوں پر پڑی تخیلی شال زمین پر اس کے ساتھ ساتھ گھسیٹتی چلی جارہی تھی۔
جیسے ایک بار پھر سے وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی کسی عذاب کی طرح وہ ایک بار پھر سے اُس
پر نازل ہوا تھا ...
جس عذاب سے برسوں پہلے مثل سے ہی اُس
نے خود کو باہر نکالا تھا،
ماضی کتنا ہی غم زدہ کیوں نہ ہو، ہم اُسے لاکھ
چاہ کر بھی نہیں بھلا سکتے ۔
پھر بھلے ہی اسے اپنے سامنے جھٹلاتے پھریں مگر ایک نا ایک دن وہ ماضی پھر سے حال بن کر آہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے، ایک بھیانک روپ دھارے"۔ اُس نے کچھ آگے جا کر وہاں پڑے بینچ پر اپنا مینڈ بیگ رکھ دیا تھا، سیاہ Glasses میں سے بہتا ہوا آنسوؤں کا ایک سیلاب اُس کے زرد چہرے کو تر کرتا ہوا
گردن میں کہیں جذب ہوتا جار ہا تھا۔
وہ جلدی سے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں سے اپنے منہ کو پوچھتی مگر ، آنسوؤں کی بارش تھی
کی تھمنے کا نام تک نہیں لے رہی تھی ۔
بارہ (12) سال پہلے نادانی میں کی گئی غلطی اُس کا پیچھا کرتے کرتے گھوم پھر کر اسی موڑ پر اسے آملی تھی، جہاں سے اُس نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا تھا۔
وہ وقت وہ کیفیات جو وہ ماضی میں کاٹ چکی تھی
پھر سے اس کی آنکھوں کے گرد منڈلانے لگا ؟
جویر ! جو یہ یہ شیشے کے سامنے بیٹھی اپنے جھمکوں سے کھیل رہی تھی، جو اس کے کانوں میں کسی انگور کے
گوشے کی طرح لٹک رہے تھے۔
اس کی سہیلی نے اسے کہا بھی کہ آج مہندی ھے مہندی کی دلہنیں زیادہ میک نہیں کرتیں ، مگر وہ کب اس بات سے واقف تھی کہ آج ہی اس کی سہیلی کی ڈولی بھی اس گھر سے اٹھنیو الی تھی، اُس کی سہیلی (جویریہ ) تو آج ہی اس گھر سے ہمیشہ کیلئے رخصت ہونے والی
بغیر بڑوں کی دُعائیں سمیٹے ہی وہ خالی ہاتھ چور رنے سے اس گھر کی دہلیز پھلانگنے والی تھی ۔ اس کی سہیلی نے سات رنگوں میں رنگی اوڑھنی اُس کے سر پر سجائی ، ہاتھوں میں موتیے کے گجروں کی خوشبو سے پورا کمرہ خوشبو سے مہک رہا تھا۔ اور پیلا رنگ اُس پر بالکل ایسا لگ رہا تھا ، جیسے سورج مکھی کا پھول یا پھر فلک سے چاند زمین پر اتر آیا
ہو۔
اتنے میں لڑکے والوں کی آمد سے پورا محلہ ڈھول کی تھاپ سے گونج پڑا، جویریہ کی سہیلی باہر کا جائزہ لینے کیلئے اسے کمرے میں اکیلا چھوڑ کر باہر چلی گی۔
(جویریہ) کے فون پر کسی کی گھنٹی بھی تو وہ فورا سے سر پر چادر اوڑھ کر بیڈ کے نیچے پڑا بیگ اٹھا کر کھڑکی سے نکل گئی۔
زمین (جسے جوہر یہ پسند کرتی تھی ) موٹر سائیکل پر گلی کے نکڑ پر کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔
اسے دیکھتے ہی زمین نے فوراً موٹر سائیکل اسٹارٹ کیا اور وہ اُس کی پچھلی سیٹ پر اُسے کندھے سے پکڑ کر بیٹھ گئی ......
موٹر سائیکل کچھ ہی فاصلے پر ریلوے سٹیشن پر زکا، چونکہ سردی کی شدت کافی زیادہ تھی اس لیے نہین نے اُسے اپنی شال بھی اوٹر ہادیہ
دو توکی کے دانت سردی منسے بج رہے تھے ، اور جسم پر ایک کپکپی طاری تھی ۔
جہاں گھر سے بھاگنے کا ڈر تھا، وہیں ایک انجان می مسکراہٹ امن کے لیوں پر محور قص ...
زین نے انجیر کے ماتھے پر آئے بالوں کو
دھیرے سے اپنے ہا تھوں کی انگلیوں سے پیچھے کیا تو جو یہ یہ جو کہ ناخنوں سے نیل پالش گھر چ رہی تھی اُس کی جانب دیکھ کر ہلکا سا مسکرادی
کچھ ہی دیر میں ترین آنے والی تھی ، رات کے قریبا نو بج رہے تھے، آسمان پر جمتے چاند جماتے ستاروں کی روشنی میں وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے مستقبل کی رنگی خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ " خام خیالی اچھی مگر حقیقت اتنی ہی درد ناک۔ "
کہ کسی نے ان پر تاریخ کی روشنی ڈالی جس پر زین اُٹھ کھڑا ہوا، سامنے کھڑا قد آور شخص پولیس کی وردی میں پر سرار نگاہوں سے اُن دونوں کو گھور رہا
پولیس والے نے جونہی پوچھا کہ یہاں کیا کر
رہے ہو اس وقت ؟؟
تو زمین نے ہر بڑا ہٹ میں کہہ دیا کہ بیوی ہے میری ، اس کے مانگے جانا ھے، ٹرین کا انتظار کر رہے
ان دونوں کے ڈرے ڈرے سے لہجے نے پولیس والے کو شک میں مبتلا کر دیا تھا، ان دونوں کو پولیس تھانے لے جایا گیا۔ اور کہا گیا کہ گھر والوں
میں سے کسی کا نمبر دیں مگر ان کے صاف انکار پر پولیس کے شکوک وشبہات یقین کی شکل اختیار کر گئے ، دونوں کو لاک اپ میں بند کر دیا گیا زین پر کافی تشدد کیا گیا مگر اس نے منہ سے ایک لفظ نہ اگلا ... جویریہ کے لاکھ منتوں ترلوں کے باوجود بھی انہیں نہ چھوڑا گیا۔
رات کے ایک بجے جویریہ کو بالوں سے پکڑ کا پولیس والا اسے لاکر سے باہر کھیتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا اور صبح تفتیش کے بعد جب اسے واپس جیل میں بند کیا گیا تو تب جویریہ کی کلائیوں پر جگہ جگہ چوڑیاں ٹوٹ کر لگنے کے نشانات تھے ، جیسے کسی نے زبر دستی کلائیوں کو مڑورا ہو، چوڑیاں ٹوٹ کر اس کی نرم و نازک سفید کلائیوں میں جھنس چکی تھیں اب اس پر کیا قیامت توڑی گئی تھی ، اس کا تو خدا
کو ہی پتا تھا ....
نمر ہر ایک نے اپنی اپنی جگہ خوب اندازے لگائے، بدکاری تک کے الزامات، اور نا جانے کیا
کیا...
پولیس کے چند چاٹ کھانے کے بعد جویریہ نے پولیس والے کو اپنے باپ کا نمبر دے دیا تھا ، جس پر کال کرتے ہی اُس کا باپ فورا پولیس اسٹیشن پہنچ گیا، یر یہ اپنی غلطی پر شرمندہ سر جھکائے وہیں کھڑی
تھی یہ اپنی غلطی
مگر گز را وقت پلیٹ تو نہیں سکتا تھا نا ! جو عزت اس نے اپنے ماں باپ کی بھری محفل اُچھال دی تھی اس کو واپس تو نہیں لایا جا سکتا تھا ناں !
بیٹی کا اجڑا حلیہ دیکھ کر باپ کی بھی آنکھیں بھر آئیں آخر کو باپ تھا کس طرح اس کی غیرت گوارہ کر رہی تھی اُسے اس حال میں دیکھنا ، کس قدر بھاری بھر کم پتھر دل پر رکھ کر وہ وہاں خاموش کھڑا تھا یہ صرف وہی
جانتا تھا۔
آنسوؤں کو چھپانے کیلئے اُس نے اپنی نظریں زمین پر گاڑھ لیں اور سر کا زخ دوسری جانب کر دیا۔ جویریہ کے باپ نے اپنی بیٹی کی رہائی کے ساتھ
ساتھ زین کو بھی چھڑوا دیا،
رہائی کے بعد جو یہ یہ سے کہا گیا کہ زین کو بولے۔ رشتہ بھیجے تاکہ سادگی سے نکاہ کرکے رخست کر دیا جائے۔
مگر زمین نے پہلے دو دن تو جو یہ سیہ کا فون اُٹھانا بھی گوارہ نہ کیا اور تیسرے دن یہ کہہ کر کال کاٹ دی کہ میں اپنی امی کی مرضی کے خلاف نہیں جا سکتا ، جو کچھ پہلے بھگت چکا ھوں تمہارے لئے وہی کافی ہے، کسی کی مزید ناراضگی اپنے سرنے نہیں لے سکتا ، اور ویسے بھی اب امی میرا رشتہ میری خالہ زاد کے ساتھ
طے کر چکیں ہیں ۔ جو کہ نہایت شریف اور اچھے گھر کی لڑکی ھے۔ اس نے کبھی کوٹ کچہریوں کے چکر کاٹے اور نہ ہی کسی غیر مرد کے ساتھ کوئی رات گزاری ... کچھ ہی مہینوں میں جو یہ یہ کا کزن جو کہ یورپ
سے چھٹی آیا ہوا تھا۔
اُس کی تین سالہ بیٹی تھی ، بیوی کا کینسر سے انتقال ہو چکا تھا، اُس سے جویریہ کی شادی ہو گئی ، (قیصر) ایک بہت اچھا انسان تھا۔
شادی کے ان بارہ سالوں میں (قیصر) نے ایک بھی بار جو یہ یہ سے اُس کا ماضی ٹٹولنے کی کوشش نہیں
آج یوں زین کو اپنے سامنے دیکھ کر جو پر یہ کا دل دکھ سے بھر گیا۔ ایک بار پھر اپنی رسوائی یاد آ گئی جس کے لیے والدین کا سر جھکا یا تھا وہ کتنا کٹھور نکلا تھا۔ آنکھوں میں آئے آنسو کو تھیلی سے رگڑ کر صاف کرتے ہوئے جویریہ کے دل سے اپنی ذلت اور رسوائی کی وہ پھانس تبھی نکل گئی جو اس کو دن رات کچوکے لگاتی تھی کیونکہ اب اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ بچوں کو سمجھائے گی کہ محبت کچھ نہیں ہوتی، اور اگر محبت کرنی ہی ہے تو اپنے والدین بہن بھائیوں اور اپنے رب سے کرو کیونکہ اُن کی محبت انسان کو منزل عطا کرتی ہے۔