Orhan

Add To collaction

شام

کہیں پر صبح رکھتا ہوں کہیں پر شام رکھتا ہوں
پھر اس بے ربط سے خاکے میں خود سے کام رکھتا ہوں

سلیقے سے میں اس کی گفتگو کا لطف لیتا ہوں
اور اس کے رو بہ رو دل میں خیال خام رکھتا ہوں

بہ ظاہر مدح سے اس کی کبھی تھکتا نہیں لیکن
درون خانۂ دل خواہش دشنام رکھتا ہوں

خوش آئی ہے ابھی تو قید خواہش اس خرابے میں
ابھی خود کو رہین گردش ایام رکھتا ہوں

سفر کی صبح میں رنج سفر کی دھول اڑتی ہے
حد آغاز میں اندیشۂ انجام رکھتا ہوں

فراق و وصل سے ہٹ کر کوئی رشتہ ہمارا ہے
کہ اس کو چھوڑ پاتا ہوں نہ اس کو تھام رکھتا ہوں

دلیل خواب مستی ہے تری آمادگی امشب
مگر اس شب میں تجھ سے اور کوئی کام رکھتا ہوں

تجاوز سے بھلا کب تک گزر اوقات ممکن تھی
سو اپنے خون تک شور دل بد نام رکھتا ہوں


ابرار احمد

   4
0 Comments