Qamar Aasi

Add To collaction

یاد

تمہارا ہی تو کہنا تھا 

مجھے تم یاد مت کرنا

عذابِ ہجر سہہ لینا 

کبھی فریاد مت کرنا

جو میری یاد کے جگنو تمہیں آکر ستائیں تو

انہیں تم قید کرلینا 

کبھی آزاد مت کرنا

جو میرا نام تم لو گے 

مری رسوائیاں ہوں گی

تمہیں گر عشق ہے مجھ سے مجھے برباد مت کرنا


تمہیں بھولا نہیں لیکن میں جینا بھول بیٹھا ہوں

تمہارے بعد جینے کا قرینہ بھول بیٹھا ہوں

بچھڑ کر روز مرتا ہوں تو پھر حیرانگی کیسی

محبت گر فنا کردے تو پھر دیوانگی کیسی

مثالِ برگِ آوارہ ہے اپنا بے ثمر جینا

بچھڑ کر اُس سے جیتا ہوں 

نہیں مجھ کو مگر جینا 


قمر آسی 

   8
5 Comments

Faraz Faizi

05-Jan-2022 02:25 PM

بہت عمدہ ♥♥♥

Reply

Amir

04-Jan-2022 04:49 PM

nice

Reply

Qamar Aasi

04-Jan-2022 05:38 PM

بہت شکریہ

Reply

Nishat Gauhar

04-Jan-2022 12:51 PM

بیمثال

Reply

Qamar Aasi

04-Jan-2022 01:01 PM

بہت شکریہ

Reply