یاد
تمہارا ہی تو کہنا تھا
مجھے تم یاد مت کرنا
عذابِ ہجر سہہ لینا
کبھی فریاد مت کرنا
جو میری یاد کے جگنو تمہیں آکر ستائیں تو
انہیں تم قید کرلینا
کبھی آزاد مت کرنا
جو میرا نام تم لو گے
مری رسوائیاں ہوں گی
تمہیں گر عشق ہے مجھ سے مجھے برباد مت کرنا
تمہیں بھولا نہیں لیکن میں جینا بھول بیٹھا ہوں
تمہارے بعد جینے کا قرینہ بھول بیٹھا ہوں
بچھڑ کر روز مرتا ہوں تو پھر حیرانگی کیسی
محبت گر فنا کردے تو پھر دیوانگی کیسی
مثالِ برگِ آوارہ ہے اپنا بے ثمر جینا
بچھڑ کر اُس سے جیتا ہوں
نہیں مجھ کو مگر جینا
قمر آسی
Faraz Faizi
05-Jan-2022 02:25 PM
بہت عمدہ ♥♥♥
Reply
Amir
04-Jan-2022 04:49 PM
nice
Reply
Qamar Aasi
04-Jan-2022 05:38 PM
بہت شکریہ
Reply
Nishat Gauhar
04-Jan-2022 12:51 PM
بیمثال
Reply
Qamar Aasi
04-Jan-2022 01:01 PM
بہت شکریہ
Reply