Orhan

Add To collaction

اندھیرے میں

اجالا ہی اجالا روشنی ہی روشنی ہے
اندھیرے میں جو تیری آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے

ابھی جاگا ہوا ہوں میں کہ تھک کر سو چکا ہوں
دئیے کی لو سے کوئی آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے

تجسس ہر افق پر ڈھونڈھتا رہتا ہے اس کو
کہاں سے اور کیسی آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے

عمل کے وقت یہ احساس رہتا ہے ہمیشہ
مرے اندر سے اپنی آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے

میں جب بھی راستے میں اپنے پیچھے دیکھتا ہوں
وہی اشکوں میں بھیگی آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے

کہیں سے ہاتھ بڑھتے ہیں مرے چہرے کی جانب
کہیں سے سرخ ہوتی آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے

درختو مجھ کو اپنے سبز پتوں میں چھپا لو
فلک سے ایک جلتی آنکھ مجھ کو دیکھتی ہے

   5
0 Comments