Tahzeeb Abid

Add To collaction

غزل

میں لاکھ کہتا رہتا ہوں ایسا نہیں ہوتا
بولے ہے عشق لڑکوں کو سچا نہیں ہوتا
رکھتی ہے رقیبوں سے بھی وہ اپنا تعلق
کہتی بھی ہے مجھسے تو یہ دھوکہ نہیں ہوتا
ہم جیسے دوانوں پہ وہ آشفتہ سری ہے
مر جاتے اگر دوست یہ سہرا نہیں ہوتا
اس عہدِ نو عجب کہ روایت عجیب ہے
وہ بولتا نہ جھوٹ تو سچا نہیں ہوتا 
جسکو حرام رزق کی لت لگ گئی یارو 
اس میں حلال کھانے کا جذبہ نہیں ہوتا 
ہے اس گلی میں آج بھی اک شخص منتظر 
اب اس گلی میں اپنا ہی جانا نہیں ہوتا 
مر جاتے ہی اس دور میں لوگ اپنے ہی اندر
یاں جاندار شخص بھی زندہ نہیں ہوتا
کمبخت تجھسے ایک محبت نہیں ہوتی
مجھسے تو کچھ بھی اس کے علاوہ نہیں ہوتا
دکھلاتا ہے تحریریں ہماری سبھی الٹی
آئینہ دوستوں سدا سچا نہیں ہوتا 
ان لوگوں کو ہوتی ہے خدا کیوں یہ محبت
 جنکو زرا بھی عشق نبھانا نہیں ہوتا نبھانا 
سید تہذیب عابد

   7
2 Comments

asma saba khwaj

14-Mar-2022 01:14 PM

ماشاء اللہ

Reply

Javed Sultanpuri.

14-Mar-2022 01:11 PM

واہ بہت خوب

Reply