غزل
میں لاکھ کہتا رہتا ہوں ایسا نہیں ہوتا
بولے ہے عشق لڑکوں کو سچا نہیں ہوتا
رکھتی ہے رقیبوں سے بھی وہ اپنا تعلق
کہتی بھی ہے مجھسے تو یہ دھوکہ نہیں ہوتا
ہم جیسے دوانوں پہ وہ آشفتہ سری ہے
مر جاتے اگر دوست یہ سہرا نہیں ہوتا
اس عہدِ نو عجب کہ روایت عجیب ہے
وہ بولتا نہ جھوٹ تو سچا نہیں ہوتا
جسکو حرام رزق کی لت لگ گئی یارو
اس میں حلال کھانے کا جذبہ نہیں ہوتا
ہے اس گلی میں آج بھی اک شخص منتظر
اب اس گلی میں اپنا ہی جانا نہیں ہوتا
مر جاتے ہی اس دور میں لوگ اپنے ہی اندر
یاں جاندار شخص بھی زندہ نہیں ہوتا
کمبخت تجھسے ایک محبت نہیں ہوتی
مجھسے تو کچھ بھی اس کے علاوہ نہیں ہوتا
دکھلاتا ہے تحریریں ہماری سبھی الٹی
آئینہ دوستوں سدا سچا نہیں ہوتا
ان لوگوں کو ہوتی ہے خدا کیوں یہ محبت
جنکو زرا بھی عشق نبھانا نہیں ہوتا نبھانا
سید تہذیب عابد
asma saba khwaj
14-Mar-2022 01:14 PM
ماشاء اللہ
Reply
Javed Sultanpuri.
14-Mar-2022 01:11 PM
واہ بہت خوب
Reply