مقابلہ
کچھ جہاں میں ترا معیار نہیں ہو سکتا
تو اگر صاحب کردار نہیں ہو سکتا
کاش بے چین نگاہوں کو یقیں آ جائے
موسم ہجر ہے دیدار نہیں ہو سکتا
بزدلی کا لہو شامل ہے رگوں میں جسکی
وہ بشر قوم کا سردار نہیں ہو سکتا
گردشوں سے بھی نکل آئے جو ہنستے ہنستے
اس کے جیسا کوئی فنکار نہیں ہو سکتا
اپنی اولاد کو ہر حال میں دیتی ہے دعا
ماں کے جیسا کہیں ایثار نہیں ہو سکتا
اپنے ایمان کا ہرگز نہ کریں گے سودا
دین سے قیمتی دینار نہیں ہو سکتا
اپنے بازو پہ نہ ہو جس کو بھروسہ ناظؔم
وہ حوادث سے کبھی پار نہیں ہو سکتا
ناظؔم مرادآبادی
موباٸل 9520326175