Add To collaction

مقابلہ

سرکار ﷺ میری لاج بچا لو غلام ہوں
دامن میں مجھ کو اپنے چھپالو غلام ہوں

کشتی ہے ٹوٹی ہاتھ میں پتوار بھی نہیں
بحر الم سے مجھ کو نکالو غلام ہوں

مدت سے میرے دل میں حضوری کی ہے تڑپ
طیبہ نگر مجھے بھی بلالو غلام ہوں

دربار سے تم اپنے نہ مجھ کو جدا کرو 
در در کی ٹھوکرو سے بچا لو غلام ہوں

عصیاں شعاری ہے مری فطرت مگر حضور
ہو تم کرم شعار سنبھالو غلام ہوں

مدفن ہو میرا شہر مدینہ میں یا رسول
رستہ کوئی تو ایسا نکالو غلام ہوں

جھڑکیں گے دنیا والے یہ ناظؔم کو آپ کے
قدموں میں دوسروں کے نہ ڈالو غلام ہوں

ناظؔم مرادآبادی

   1
0 Comments