11-Apr-2022 لیکھنی کی کہانی -
غزل
اھل شر تو رہتے ہیں بستیاں جلانے میں
"لوگ ٹوٹ جاتےہیں ایک گھر بنانے میں"
اپنا سر چھپانے کو تنکا ہم جو چنتے ہیں
آگ وہ لگاتے ہیں ہنس کے آشیانے میں
میکشوں کو ترسا کر بوند بوند دیتا ہے
ساقیا مزہ کیا ہے اسطرح پلانے میں
امن کے نگہباں ہی ان دنوں تو بستی میں
آگے آگے رہتے ہیں برچھیاں چلانے میں
کیسے وہ بھلا روکیں آگ و خوں کی آندھی کو
ہاتھ جنکا رہتا ہے قوم کو لڑانے میں
امن کے بھی دشمن وہ ہم کو آج کہتے ہیں
رات دن جو رہتے ہیں نفرتیں بڑھانے میں
کاش سوچتے ثروت حشر اپنی بہنوں کا
لالچی جہیزوں کے دلہنیں جلانے میں
ثروت حسین (ٹروت) دولتپوری کٹیہار بہار انڈیا
BAQAR RAZA RIZVI
12-Apr-2022 11:03 PM
Mubarakbad janab
Reply
Faraz Faizi
12-Apr-2022 06:32 PM
بہت عمدہ
Reply
Mohammadirfan ashfaq khan Irfan
12-Apr-2022 01:16 PM
مبارکباد قبول فرمائیں آپ
Reply