@nadirbhopali

Add To collaction

اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں

پہلی تضمینی غزل ▫️

*افسوس یہ ہے عالمِ ناپائیدار میں*
*"اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں  اختیار میں"*

*اپنا بنا کے لوٹ لیا گل عذار نے*
*"اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں"*

*لگتا ہے میری ذات ہے تیرے حصار میں* 
*"اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں  اختیار میں "*

*اپنے تو ہاتھ پیار میں  کچھ بھی  نہیں  لگا*
*"اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں  اختیار میں"*

*کس نے کہا کہ ہم پہ ہمارا ہے اختیار*
*" اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں  اختیار میں "*

*نادر فریبِ ہستی کی شوخی تو دیکھیے* 
*اک دل ہے پاس وہ بھی نہیں اختیار میں*

نادر بھوپالی

   12
8 Comments

Reyaan

17-Apr-2022 09:48 PM

Very nice 👍🏼

Reply

Renu

16-Apr-2022 12:01 PM

شاندار

Reply

Gunjan Kamal

16-Apr-2022 11:18 AM

Very nice 👌

Reply