16اپریل مقابلہ
غزل
سواتیرےکوئی دل میں بسایاکیوں نہیں جاتا
میرےدل سےتیراچہرہ مٹایاکیوں نہیں جاتا
محبت تومحبت ہےمحبت میں اناکیوں ہے
جو روٹھاہوکوئی ساتھی منایاکیوں نہیں جاتا
کبھی آپس میں لڑجانا بچھڑجانا گلےملنا
وہ یادوں کاحسیں لمحہ بھلایاکیوں نہیں جاتا
بہت ڈپریس ہوتی ہیں ہماری یہ نئی نسلیں
بچانےکاکوئی رستہ نکالاکیوں نہیں جاتا
ضرورت ہےکہ بچوں کوملےدرس مروت بھی
نصابوں میں کوئی چپٹرپڑھایاکیوں نہیں جاتا
اٹھاۓجس نےسب نخرےتیرےبچپن کےہنس ہنس کے
بڑھاپےمیں وہی تم سے سنبھالاکیوں نہیں جاتا
بہت آسان ہےثروت یہ کہدینا محبت ہے
کیاوعدہ محبت کانبھایاکیوں نہیں جاتا
ثروت حسین (ثروت) دولتپوری کٹیہار بہار انڈیا
Anam ansari
16-Apr-2022 04:46 PM
Nice👏
Reply
asma saba khwaj
16-Apr-2022 12:53 PM
بہت خوب
Reply