Add To collaction

اشعار

قلب مضطر کو مرے بہلائیے
آئیے نزدیک میرے آئیے

کر نہیں سکتے کسی سے گر وفا
ڈوب کر دریا میں ہی مر جائیے

ذندگی ذلت کی کیوں جیتے ہیں آپ
ایسے جینے سے تو بس مر جائیے

اتنی نفرت کیوں ہے آخر آپ کو
کیا ہوئی مجھ سے خطا بتلائیے

با وفا ہونے کا مت دعوہ کرو
بے وفا ہو بے وفا کہلائیے

ہم کو جو کہنا تھا سب کچھ کہہ دیا
اپنے ہونٹوں سے بھی کچھ فرمائیے

راہ گیروں کو ہو جس سے فائدہ
کم سے کم اک شمع ہی بن جائیے

مر کے بھی فرقت رہے گی نا گوار
کوچہِ محبوب میں دفنائیے

چین سے جینے نہیں دیتی مجھے
سنگ دل کی یاد تو بھلوائیے

دل تڑپتا ہے تسلی تو ملے
جاتے جاتے پیار ہے کہہ جائیے

دے دیا ناظؔم نے جو تحفے میں دل
ہے قسم تم کو نہیں ٹھکرائیے

ناظؔم مرادآبادی✍︎

   7
7 Comments

Reyaan

16-May-2022 09:31 AM

👌👏🙏🏻

Reply

Nazim Moradabadi

23-May-2022 08:43 AM

🌹

Reply

Gunjan Kamal

15-May-2022 12:36 PM

👏👌🙏🏻

Reply

Nazim Moradabadi

23-May-2022 08:43 AM

💐

Reply

Seyad faizul murad

15-May-2022 11:31 AM

Bahut khoob

Reply

Nazim Moradabadi

23-May-2022 08:42 AM

Shukriya

Reply