رشتے بقلم بیااعوان
رشتے۔۔۔۔۔
اللہ تعالی نے نے اپنے بندوں کو کو بے شمار نعمتوں سے سے نوازا ہے رشتے ان میں سے ایک عظیم نعمت ہیں انسان رشتوں کے بنا ادھورا ہےرشتے انسان کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے اس کا دل۔
ماں باپ میاں بیوی بیوی یہ وہ رشتے ہیں جن کا تعلق آپ کے ساتھ رگوں میں دوڑتے خون کی طرح ہے.
کبھی سوچا ہے اللہ تعالی نے یہ رشتے کیوں بنائے ؟ کیوں اللہ نے ان تین بولو میں جس سے میاں بیوی ایسے بندھ جاتے ہیں کہ وہ الفاظ محض تین الفاظ نہیں ان کی زندگی بن جاتے ہیں .
کیسے پہلے آپ ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں ہوتے پھر ان تین لفظوں سے آپ ایک دوسرے کی عزت کی چادر بن جاتے ہو۔
ماں باپ یہ وہ رشتے ہیں جو اس دنیا میں آپ کے ساتھ سب سے زیادہ مخلص ہیں چاہے ساری دنیا آپ کے خلاف ہو جائے ماں باپ ہر قدم پر آپ کی ڈھال بنے کھڑے رہتے ہیں پھر چاہے کھڑے ہونے کی سقط باقی رہے یا نہ رہے ان کی دعائیں آپ پر سے ساری بلائیں یوں ختم کر دیتی ہیں جیسے کوئی کشتی اتنے بڑے سمندر کو چیرتی ہوئی بلا خوف کے سفر طے کرتی ہے.
ماں باپ وہ ہستی ہوتے ہیں جو آپ کو زندگی میں ایک بار ملتے ہیں ان کی قدر کریں ہم سمجھتے ہیں ہمارے ماں باپ ہم سے اتنی محبت نہیں رکھتے تب ہی ہمارے ہر عمل پر نظر رکھتے ہیں یہ ہمیں ٹوٹتے ہیں تو ہمیں بہت برا لگتا ہے مگر یقین مانیں اصل میں وہ ہمیں غلطیاں کرنے سے بچانا چاہتے ہیں وہ غلطیاں جو بعد میں صرف غلطیاں نہیں بعض اوقات ماضی کا وہ تلخ حصہ بن جاتی ہیں جو پھر نہ بھلایا جاسکتا ہے اور نہ مٹایا۔ہمیں اس بات کا اندازہ شاید بہت دیر سے ہوتا ہے۔ماں باپ کی محبت دیکھیں ان کیے لیے ان کی تمام اولاد ایسی ہی ہے جیسے ہاتھ کی پانچھ انگلیاں کیا آپ کسی ایک انگلی کو کاٹ سکتے ہو؟؟ کبھی نہیں۔۔ ماں باپ کبھی بھی اپنی اولاد میں فرق نہیں کرتے ہاں کچھ بچے اپنی عادات کی وجہ سے ان کے زیادہ قریب ضرور ہو جاتے ہیں۔
یہ دور بڑا ظالم ہے اور ہم اس ظالم سماج کے ظالم لوگ ۔ ہم ظلم کسی اور پر نہیں اپنے آپ پر کرتے ہیں اپنی آخرت پر کرتے ہیں۔۔
آج کل کے بچے ماں باپ کو وقت نہیں دیتے ان سے بیٹھ کے ان کا حال نہیں پوچھتے ۔ انھیں پیار بھری نگاہوں سے دیکھ کر مسکراتے نہیں۔ ہم ساری مجبت ان سے لینے کے خواہشمند تو ہوتے ہیں مگر کبھی نے ان کی اس مجبت کے بدلے میں اپنایت ، احساس کرنے والی اولاد بننے کی کوشش کی ہے؟
اگر نہیں کی تو خدارا یہ بےلوث محبت کرنے والے آپ کو پوری دنیا بھی ٹٹول لیں نہیں ملنے والے۔۔۔
پتا ہے جب ماں باپ نہ ہوں ناں تو سمجھ لیں آپ اس دنیا کے غریب ترین انسان ہیں جسے پوچھنے والا پکارنے والا ٹانٹ کر سمجھانے والا کوئ نہیں ۔
ماں باپ جب تک زندہ ہوں آپ کو ایک سہارا رہتا ہے کی اگر آپ گرے تو آپ کو ہاتھ بڑھا کر کوئ اٹھانے والا ہے، کوئ ہمت دینے والا آپ کے پیچھے سائے کی طرح موجود ہے۔۔۔
جن کے ماں باپ زندہ ہیں الله ان کے ماں باپ کا سایہ ہمیشہ ان کے سروں پر سلامت رکھے اور انھیں توفیق دے کہ وہ ان کے ساتھ اتنی ہی محبت سے پیش آئیں جس طرح انھوں نے اسے پال پوس کر بڑا کیا ہے۔۔۔
اور جن کے ماں باپ اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں اللہ ان کی کوتاہیوں کو معاف کرے ۔ اور آپ کو صبر دے۔۔۔۔
اللہ آپ سب کا حامیو ناصر ہو ۔۔۔
بیااعوان۔۔
Manzar Ansari
08-Jun-2022 11:47 PM
Good
Reply
Shnaya
31-May-2022 09:56 PM
Nice 👍🏼
Reply
Arshik
30-May-2022 08:52 PM
Nice
Reply