Sarwat Husain

Add To collaction

10-Sep-2022 لیکھنی کی نظم

سب کی نگاہ رہتی ہے ان پر لگی ہوئی
خوشبو بدن پہ جنکے ہو اکثر لگی ہوئی

ہم نے تو بس نقاب اتارا تھا جھوٹ سے
تلوار ہے ہمارے ہی سرپر لگی ہوئی

سچ کو چھپا دیا ہے جی دولت کے ڈھیر میں
چادر ہے آئینے کے بھی رخ پر لگی ہوئی

سونے کی قبر میں جو محبت کی لاش ہے
کافور کی جگہ پہ ہے کیسر لگی ہوئی

انصاف، کیا عدالتیں، کیا جج، وکیل کیا
سب کی زباں پہ چپ سی ہیں یکسر لگی ہوئی

اشعار سے ہمارے کیوں چڑھ گئے جناپ
ہم کو تو بس ہے وقت سے ٹھوکر لگی ہوئی

مانا کہ دور میں سہی دل سے قریب ہوں
رہتی ہے یاد آپ کی دلبر لگی ہوئی

ثروت محبتوں کا صلہ یہ ملا ہمیں
ہر سانس ہے ہماری یوں دم پر لگی ہوئی

ثروت   دولتپوری   کٹیہار   بہار

   7
1 Comments

Seyad faizul murad

10-Sep-2022 04:35 PM

بہت خوب واااہ وااہ

Reply