Qamar Aasi

Add To collaction

پتھر

پھول چاہے مگر مِلا پتھر
میرے محبوب کی عطا پتھر

دل تو اپنا ہے موم کی صورت
مگر اس میں ہے آ بسا پتھر

میں ہوں شامل وفا شعاروں میں
میری ہے ایک ہی سزا ، پتھر

میری سب التجائیں سنتا ہے 
میرا ہرگز نہیں خُدا پتھر

تُو تو شامل ہے میرے یاروں میں
کم سے کم تُو تو مت اُٹھا پتھر

پھول لاتا تھا جس کی خاطر میں
اب وہ مجھ کو ہے مارتا پتھر

اُس کے ہاتھوں کو چھُو کے آیا ہے
چوم لے ، سینے سے لگا پتھر

تم نے دیکھا نہیں اُسے لیکن
میں نے دیکھا ہے بولتا پتھر
قمرآسیؔ

   5
6 Comments

Abraham

08-Jan-2022 11:57 AM

Aap aese hi likhte rahe ۔or hum apse sekhte rahe ۔۔۔

Reply

Abraham

08-Jan-2022 11:56 AM

Bahut bahut pyara likha he qamar sahab۔ Apke nam ki tarah apki kalam bhi chamak rahi he

Reply

Waqar Hayat

05-Jan-2022 12:20 PM

واہ واہ واہ

Reply

Qamar Aasi

05-Jan-2022 12:27 PM

بہت شکریہ سلامت رہیں

Reply