پھول چاہے مگر مِلا پتھر
میرے محبوب کی عطا پتھر
دل تو اپنا ہے موم کی صورت
مگر اس میں ہے آ بسا پتھر
میں ہوں شامل وفا شعاروں میں
میری ہے ایک ہی سزا ، پتھر
میری سب التجائیں سنتا ہے
میرا ہرگز نہیں خُدا پتھر
تُو تو شامل ہے میرے یاروں میں
کم سے کم تُو تو مت اُٹھا پتھر
پھول لاتا تھا جس کی خاطر میں
اب وہ مجھ کو ہے مارتا پتھر
اُس کے ہاتھوں کو چھُو کے آیا ہے
چوم لے ، سینے سے لگا پتھر
تم نے دیکھا نہیں اُسے لیکن
میں نے دیکھا ہے بولتا پتھر
قمرآسیؔ
Abraham
08-Jan-2022 11:57 AM
Aap aese hi likhte rahe ۔or hum apse sekhte rahe ۔۔۔
Reply
Abraham
08-Jan-2022 11:56 AM
Bahut bahut pyara likha he qamar sahab۔ Apke nam ki tarah apki kalam bhi chamak rahi he
Reply
Waqar Hayat
05-Jan-2022 12:20 PM
واہ واہ واہ
Reply
Qamar Aasi
05-Jan-2022 12:27 PM
بہت شکریہ سلامت رہیں
Reply