قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم

1 Part

225 times read

1 Liked

قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم کچھ امتحانِ دستِ جفا کر چکے ہیں ہم کچھ اُن کی دسترس کا پتا ...

×